کالم و مضامین

این اے 67 کے بدلتے رنگ

تحریر: چوہدری زاہد حیات

کسی کو یاد ہو یا نا یاد لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحصیل پنڈ دادنخان آگے بڑھنے کی بجائے پس ماندگی کی طرف ہی بڑھتی جا رہی تھی اور ہر آنے والا دن اس حلقے اور تحصیل کے لیے مسائل کا اضافہ کرتا جا رہا تھا۔

زرعی شعبے پر انحصار کرنے والی یہ تحصیل اپنی برباد ہوتی ہوئی زمین کی وجہ سے زراعت میں بھی زوال پزیر تھی اس تحصیل کی سب سے بڑا مسئلہ ہزاروں ایکٹر کڑوی ہوتی زمین کو مٹھیا کرنا اور اس کے لیے میٹھا پانی فراہم کرنا تھا اس لیے شاید بھٹو کے دور حکومت سے پہلے بھی نہر کا منصوبہ بنایا گیا لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ نہر کا یہ منصوبہ سالوں تک کاغزات میں ہی رہا یا انتخابات کے موقع پر صرف انتخابی نعرہ بنتا رہا۔

جب چوہدری فواد حسین اس حلقے سے منتخب ہوئے تو وہ جانتے تھے کہ اس تحصیل کے لیے اور اس حلقے کے لیے سب سے بڑا پراجیکٹ اور منصوبہ یہی نہر ہے اس لیے انہوں نے برق رفتاری سے اس منصوبے پر کام کیا اور اپنے انتخاب کے دوسرے سال ہی وزیراعظم پاکستان سے اس کا افتتاح کروا لیا۔

اس نہر کی تعمیر سے ہی بہت مثبت اثرات سامنے آئے تحصیل پنڈ دادنخان کی وہ زمین جو بے مول تھی انمول بن گئی اور زمین داروں اور کاشت کاروں کے چہروں پر نئے اور زندگی سے بھرپور رنگ سج گئے یقین کریں نہر کا یہ منصوبہ پنڈ دادنخان کے لیے سی پیک سے بڑھ کر اچھے اور مثبت اثرات کا حامل ہے۔

منصوبہ کب بنا اس بحث کو چھوڑیں منصوبہ کب شروع ہوا عملی طور پر یہ دیکھیں کیونکہ چوہدری فواد کو اس منصوبے کی افادیت اور کے اثرات کا بخوبی علم تھا اس لیے چوہدری فواد نے سب سے پہلے اس کی طرف دھیان دیا، چوہدری فواد جانتے تھے کہ اس منصوبے کے شروع ہوتے ہی اس تحصیل کی قسمت جاگ جائے گی۔

یہ تحصیل پنڈ دادنخان محنت کشوں اور مزدوروں کی زمین ہے یہاں ہر او بی آئی کا آفس بہت ضروری تھا کیونکہ جہلم جانا ایک محنت کش کے لیے کسی طور پر آسان نہیں تھا چوہدری فواد نے محنت کش طبقے کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر اس بی آئی دفتر یہاں ہی بنوا دیا اس دفتر کی افادیت اور اس کے ثمرات شاید آپ اور میں نا جانتے ہوں لیکن اس کی اہمیت ان محنت کشوں سے پوچھیں جو اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں اور جن کے لبوں پر دعائیں ہیں چوہدری فواد حسین کے لیے اور یاد رہے اس تحصیل کا بہت سا حصہ انہی محنت کشوں پر مشتمل ہے۔

تحصیل پنڈ دادنخان میں اب لوگوں میں بیرون ملک جانے کا رجحان کافی زیادہ ہے لیکن پاسپورٹ کا حصول آسان کام نا تھا جہلم جانا ایک عام بندے کے لیے مشکل تھا اور سڑک کی خراب ترین صورتحال اور بھی پاسپورٹ آفس جہلم پہنچانا مشکل بنا دیتی تھی تو چوہدری فواد پاسپورٹ آفس پنڈ دادنخان لے آئے۔

یقین مانیں یہ بھی ایک بہت بڑا منصوبہ پنڈ دادنخان کے لیے اور بہت بڑا ریلیف مقامی عوام کے لیے میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے پنڈ دادنخان جہلم روڈ کو کسی بھی دور میں اچھی حالت میں نہیں دیکھا جہلم ضلعی ہیڈ کوارٹر ہے لیکن پنڈ دادنخان سے جہلم جانا کسی بھی دور میں آسان نہیں رہا۔

ہمارے حلقے کے لوگوں کہ اس سڑک کے بارے میں صرف یہ خواہش ہوتی تھی کہ یہ درست ہو جائے تاکہ گاڑی مسافروں سمیت بخریت اپنی منزل ہر پہنچ جائے ایسے میں چوہدری فواد نے حلقے کی عوام کو دو رویہ سڑک کی نوید سنائی اور اب الحمدللہ اس کا فنڈ بھی جاری ہو چکا اور لللہ سے جہلم تک ون وے روڈ کا خواب حقیقت بننے جا رہا جس کا کریڈٹ چوہدری فواد کو ہے اور یہ میگا پراجیکٹ بھی چوہدری فواد ہی لاسکتے تھے۔

وہ تحصیل جو پسماندگی کی طرف رواں دواں تھی اب اس پر ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں اب ہسپتالوں میں ڈاکٹر پورے ہیں بہت سارے ضلعی ہسپتالوں میں ونیٹی لیٹرز نہیں ہیں لیکن تحصیل پنڈ دادنخان کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو دو ونٹی لیٹرز فراہم کر دئے گئے ہیں جو کہ کورونا وبا میں تحصیل پنڈ دادنخان کے عوام کے لیے بہت بڑا ریلیف ہے لنکس روڈ پانی کی سکیمیں اور کوئی ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہیں۔

اس تحصیل پنڈ دادنخان اور حلقہ این اے 67 کے رنگ اب بدل رہے خوشحالی کے خوبصورت رنگ حلقہ این اے 67 کی زمین پر اتر رہے ہیں انشاء اللہ وہ وقت اب دور نہیں جب حلقہ این اے 67 کی وجہ شہرت ہس ماندگی نہیں بلکہ اس کی ترقی ہو گی۔کیونکہ ترقی اور خوشحالی کے رنگ چوہدری فواد حسین کے سنگ اس حلقے میں اترنے لگے ہیں مکمل منصوبوں کا احاطہ ممکن نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ حلقہ این اے 67 اور تحصیل پنڈ دادنخان اب انشاء اللہ نئے اور ترقی کے رنگوں میں رنگے جا رہے ہیں۔ شکریہ فواد حسین شکریہ

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button