دینہاہم خبریں

پاکستان اور چین کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر کو ناکامی ہوگی۔ چوہدری فواد حسین

دینہ: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات چوہدری فوادحسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر کو ناکامی ہوگی، داسو واقعہ کے بعد چین نے داسو ڈیم پر کام کی رفتار مزید تیز کر دی ہے، ہر مشکل میں ساتھ دینے پر چین کی حکومت اور عوام کے مشکور ہیں، داسو واقعہ کی تحقیقات دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، اس واقعہ کے پیچھے سی پیک کو ناکام کرنے کی خواہاں قوتیں کار فرما ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزلدھڑ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان نائب صدر کا حالیہ بیان قابل افسوس ہے، افغان حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہے، پاکستان اور افغانستان کے عوام کا رشتہ بہت مضبوط ہے، پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہے، افغانستان کے مسائل افغان عوام نے ہی حل کرنے ہیں، پاکستان صرف تعاون کرسکتا ہے۔


وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ داسو واقعہ میں سی پیک مخالف قوتیں کار فرما ہیں جو اس منصوبے کو روکنا چاہتی تھیں لیکن چین نے داسو ڈیم پر کام کی رفتار تیز کر دی ہے۔ یہ پاکستان اور چین کا آپس کے اعتماد کا رشتہ ہے، چین نے پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے جس پر چین کی حکومت اور عوام کے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ داسو واقعہ کی تحقیقات دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ناکامی ہوگی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کے نائب صدر امر صالح کے پاکستان مخالف بیانات قابل افسوس ہیں، افغانستان کے معاملات یا مسائل افغانستان کے لوگوں نے حل کرنے ہیں، ہم صرف مدد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی مشکل وقت میں مدد کی جس کی مثال نہیں ملتی لیکن بدقسمتی سے افغان حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امر صالح کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کا خاندان وہاں نہیں رہتا، ان کی جڑیں افغانستان میں نہیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان سے مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں، جونہی ان کا افغانستان سے مفاد ختم ہو گا، یہ وہاں سے چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان افغان بہادر قوم کا ہے، پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کا آپس میں مضبوط رشتہ ہے، کچھ دلبرداشتہ قوتوں کی طرف سے اس طرح کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button