نئے پاکستان کے پرانے سستے رمضان بازار

تحریر : راشدخان

0

رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی ماضی کی طرح عوام کی سہولت کے پیش نظراربوں روپے کی سبسڈی والے سستے بازار لگائے گئے ہیں،جن چیزوں پر ماضی میں تنقید ہوا کرتی تھی وہی سب کچھ اب بھی ہو رہا ہے،سستی اشیاء ضرورت کے لئے ماضی میں بھی غریب کی عزت نفس کو مجروع کیا جاتا تھا اور اب بھی ایک کلو چینی کے لیے لمبی قطاروں میں شناختی کارڈ کی کاپیاں لیے عوام کا مذاق اڑایا جا رہاہے۔

آجکل اخبارات میں زیادہ چھپنے والی خبریں اور تصاویر رمضان سستے بازاروں کے متعلق ہیں جس میں حکومتی مشینری سے جڑے تمام ہی آفیسران عوام کو ریلیف دینے سستے بازاروں کورونق بخشتے نظر آرہے ہیں ہمارے ضلع جہلم اور اس کی تمام ہی تحصیلوں کی صورت حال پرانے پاکستان جیسی ہے ان بازاروں کے دورے الصبع شروع ہوجاتے ہیں،جبکہ دن دو بجے تک جیسے ہی دورے ختم بازار بھی ویران ہوجاتے ہیں۔

یہاںخود ڈپٹی کمشنر جہلم کے ساتھ ساتھ اسسٹنٹ کمشنرز ، ADC، سپیشل فوڈانسپکٹرز، تحصیلدار ،چیف افیسران ،اور ڈی پی او کی خصوصی ہدایات پر ڈی ایس پیز سمیت درجنوں مختلف محکموں کے سیکرٹری صاحبان کر رہے ہیں تاہم تقریبا تمام ہی صاحبان دورہ پر آنے سے قبل زیر اثر مقامی انتظا میہ کو آمد کے وقت کی اطلاع کرنا نہیں بھولتے جسکی وجہ سے جہاں پروٹوکول ملتا ہے وہی سب اچھا کی رپوٹ بنانے میں خاطر خواں مدد ملتی ہے اور ساتھ ہی اس بات کوبھی ذہین نشین رکھا جا تا ہے کہ میڈیاسے وابستہ چند منظور نظر نمائندوں کو بھی دوران وزٹ ساتھ رکھا جائے تاکہ ان آفیسران کی تصاویری یادگاریں ضرور محفوظ کر لی جائیں۔

اس موقع پر ان بازاروں سے مطلق عوامی شکایات اور مسائل کے بارے میں بات چیت کرنے کی بجائے یہ میڈیا نمائندگان یا آفیسران کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہوتے ہیں یا مائک لیے صاحبان کے آگے پیچھے ہورہے ہوتے ہیں ان آفیسران کے یہ عوامی خدمت کی مد میں دورے بلا ناغہ ہورہے ہیں اور اخبار ات کے مطابق محترم آفیسر ان بازاروں کے تمام انتظامات سے مکمل اطمینان رکھتے ہیں جس میں اشیاء خردونوش کی کوالٹی ،ان کی قیمتیں ،وافر دستیابی ،اور انتظامی امور وغیرہ شامل ہیں اور آخر میں مقامی انتظامیہ کو اچھے انتظامات پر شاباش دے کر دورہ ختم ہوجا تاہے اس کے بعد دورہ کا TADA فارم (حکومت کی جانب سے دورہ کرنے کا خرچہ)بھر کر سرکار ی کھاتے میں جمع کروا دیا جاتاہے اور اگلے دن کے اخبار ات کا ریکارڈاکھٹا کرکے فائل بنائی جاتی ہے اور سب اچھا کی رپورٹ۔

قابل ذکر اور دلچسپ بات یہ ہے جن جن اخبارات میں ان آفیسران کی رمضان بازاروں کے دوروں کی خبریں چھپتی ہیں ان ہی صفحات پر ان ہی علاقوں کی عوام کا رونا بھی چھپا ہوتا ہے جو رمضان المبارک میں حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی سبسڈی تلاش کرنے اور سستی معیاری اشیاء کی آس میں گھروں سے نکلتے ہیں اور مایوس لوٹتے ہیں عوام کا کہناہے کہ ان بازاروں میں دستیاب قلیل مقداروں کی اشیاء کی جہاں عام مارکیٹ سے قیمت زیادہ ہے وہی معیار بھی ناقص ہے جبکہ جن اشیاء مثلا(چینی،گھی ،آٹا)کی قیمت جوکچھ کمی ہے وہ عدم دستیاب ہے، اور اس کے لیے عوام کو صبع سے شام اور شام سے کل کے لارے لگاجاتے ہیں۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ جب حکومت پنجاب کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اربوں روپیہ خرچ ہو رہاہے اور اس کی مناسب تشہر کے لیے کروڑوں کے فنڈ خرچ کیے جا رہے ہیں ا سکے ساتھ ساتھ جہاں یہ بازار لگتے ہیں وہاں کی لوکل انتظامیہ تقریبا باقی تمام کام چھوڑ کر ان بازاروں کے انتظانات میں مصروف ہوتی ہے اور ظاہر ہے سرکاری آفیسران کو حکومت کی جانب سے ان دوروں کی مد میں لاکھوں روپے کاخرچہ بھی اد ا کر نا پڑتا ہے ، سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے، علاقہ کے تقریبا تمام ہی سرکاری و نیم سرکاری آفیسران اور ان کی مین پاور ان ہی بازاروں کی آڑمیں دفتروں غائب رہتے ہیں اور اگر کوئی صوبائی وزیر چکر لگا لے تو اس کے پروٹوکول کے اخراجات وغیرہ وغیرہ تو عوام ان سب چیزوں کے باوجود ناراض کیوں ہے؟؟؟

سرکاری آفیسران کی رپورٹ کے مطابق سب اچھا اور غریب عوام کے مطابق مسائل ہی مسائل آخر حقیقت ہے کیا؟؟عوام کہتی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں ہم ان رمضان المبارک میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے سستے بازاروں میں اس سوچ سے ساتھ جاتے ہیں کہ اچھی اور سستی چیزیں میسر آئیں مگر یہاں سب سے زیادہ وافر مقدا ر میں جو چیز نظر آتی ہے وہ حکومتی تشہری بینرز ہیں انتظامیہ کی جانب سے چند کمزور دوکانداروں اور ریڑی بانوں کو اسٹال لگانے کا پابند کیا گیا ہوتا ہے جو بادل نخواستہ چند عام استعمال کی چیزیں رکھے ہوتے ہیں ان بازاروں میں دستیاب پھلو ں اور سبزیوں کے ریٹ یا تو عام مارکیٹ سے زیادہ ہوتے ہیں یا برابر اور معیار بھی نہیں ہوتا ،جبکہ آٹا ،چینی ،گھی جیسی چیزیں جن کے سستے ہونے کے بینرز لگے نظر آتے ہیں وہ قلیل مقداروں میں ہونے کی وجہ سے جلد غائب ہوجاتی ہیں ،جبکہ دالوں کے نرخوں کا حال بھی ایساہی ہے ۔
حکومت کی جانب سے اتنی خطیررقم خرچ کرنے کے باوجود اور درجنوں کے حساب سے سرکاری آفیسران کے دوروں کے باوجود اس محنت کے ثمرات سے اگر حق دار محروم ہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟کن کن جہگوں پر کرپشن ہو رہی ہے ؟سب اچھا کی رپورٹ کس طرح ٹائپ ہو کر اوپر پہنچ رہی ہے ؟کون کون ان سکیموں سے مستفید ہو رہے ہیں ؟کیا حکومت حقیقی معنوں میں اس ماہ مقدس کے ختم ہونے سے قبل عوام کو ریلیف پہنچانے میں کامیاب ہو جائے گی؟کیا حکومتی صاحبان عوام کو ان کے حق سے محروم رکھنے والوں کے خلاف قابل گرفت احکامات جاری کریں گے؟ یا پھر اگلے ماہ رمضان کا انتظار؟؟؟

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.