کالجوں میں بی ایس کے لیے دوہرا امتحانی معیار ،کالجوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی اکثریت پریشان

0

پڑی درویزہ: یونیورسٹیوں اور الحاق شدہ کالجوں میں بی ایس کے لیے دوہرا امتحانی معیار ،کالجوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی اکثریت پریشان۔ چیئر مین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وائس چانسلر صاحبان سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جن یونیورسٹیوں میں سمسٹر سسٹم (شش ماہی نظام الامتحان )نافذ العمل ہے، یونیورسٹیوں اور ان سے الحاق شدہ کالجوں کے امتحانی پرچہ جات اور نتائج کے طریقہ کار میں واضح امتیاز پایا جاتا ہے ۔

اطلاعات کے مطابق بعض جامعات میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا ایک سمسٹر دو مرتبہ سیشنل ون، ٹو اور ایک اختتامی امتحان پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ بعض یونیورسٹیوں میں سیشنل ، مڈ ٹرم پھرسمسٹر کا اختتامی مرحلہ آتا ہے ۔ سیشنل یا سیشنل ون اور مڈ ٹرم کے امتحانات میں جو نصاب شامل ہوتا ہے وہ سمسٹر کے اختتامی امتحان میں دوبارہ سے شامل نہیں کیا جاتانیز سمسٹر کے ان مراحل کے 50فیصد نمبر دیے جاتے ہیںاور اختتامی امتحان کے 50فیصد نمبر ہوتے ہیں۔

یونیورسٹیوں کے اند ر زیر تعلیم طلباء و طالبات کے نتائج نئے رائج الوقت فارمولے GPA/CGPA کے مطابق فیصدی(70%)3،(75%)3.5حتیٰ کے (80%)4یا زائدتک بھی آجاتی ہے جبکہ انہی یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ کالجوں جہاں زیادہ تر کم آمدنی کے حامل والدین کے بچے اور بچیاںزیر تعلیم ہوتے ہیں کا ایک سمسٹرسیشنل ون ،ٹو یا سیشنل اور مڈ ٹرم اور پھر اختتامی سمسٹر امتحان پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اختتامی امتحان سے پہلے مراحل کے صرف 40فیصد نمبر دیے جاتے ہیں اور سمسٹر کے اختتامی امتحان جو براے راست یونیورسٹیوں کے زیر انتظام ہوتا ہے، سے 60فیصد نمبر دیے جاتے ہیں ۔

علاوہ ازیں سیشنل ون ، ٹو یا مڈ ٹرم میں شامل نصاب کو دوبارہ سے اختتامی امتحان میں شامل کر دیا جاتا ہے نمبروں کی مذکورہ تقسیم اوراختتامی امتحان میں سیشنل اور مڈٹرم کے نصاب کو دوبارہ سے شامل کرنے کی وجہ سے کالجوں میں زیر تعلیم اکثر طلباء و طالبات کا GPA/CGPA،(60%)2 سے شروع ہو کر زیادہ تر بمشکل (70%)3تک جا سکتا ہے ۔ بیان کردہ صورت حال کی وجہ سے جامعات سے الحاق شدہ کالجوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ جامعات اور ملحقہ کالجوں میں مذکورہ طریقہ امتحان یونیورسٹیوں سے ملحقہ کالجوں کے طلباء و طالبات سے امتیازی سلوک کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

بیان بالا صورت حال کے متعلق مختلف کالجوں کے طلباء و طالبات کی اکثریت نے چیئر مین ہائر ایجوکیشن کمشن اور پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان سے امتیازی طریقہ امتحان پر نظر ثانی کرنے کے بعد یکساں مارکنگ سسٹم رائج کرنے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ کالجوں کے طلباء و طالبات میں پایا جانے والا احساس کمتری ختم ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.