جہلم

کھلونا نما پستول، کلاشنکوف سمیت دیگر اسلحہ عید الفطر پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کھلونے بن گئے

جہلم: ٹی وی ڈراموں ، فلموں،کارٹونز، ویڈیو گیمز میں اسلحہ کی بھرپور نمائش، ملکی حالات اور والدین کے بے جا لاڈپیار نے کمسن بچوں کے ہاتھوں میں بھی بندوقیں تھمادیں۔ شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں کھلونا نما پستول، کلاشنکوف سمیت دیگر اسلحہ عید الفطر پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کھلونے بن گئے۔

بچوں نے گاڑیوں، موٹر سائیکلوںودیگر روایتی کھلونوں کے بجائے اسلحہ نما کھلونوں کو ترجیح دینا شروع کررکھی ہے جس سے بچوں کے ذہنوں سے اسلحہ کے خطرات بھی کم ہوتے جار ہے ہیں۔ عید الفطر سے قبل ہی کھلونا پستول سے ایک دوسرے پر گولیاں چلانا اور مرنے مارنے کی اداکاری کرنا بچوں میں تشدد پسندی کو پروان چڑھانے کا رواج عام ہو رہا ہے ۔

ان کھلونا نما ہتھیاروں کے تمام فنکشنز اصل بندوقوں کی طرح کام کرتے ہیں اور بعض کھلونا بندوقوں میں لیزر لائٹس بھی نصب ہیں، جس سے رات میں بھی درست نشانہ لگایا جاسکتا ہے۔ مختلف سائز کی یہ بندوقیں 150 روپے سے3 ہزار روپے میں شہر کی دکانوں سے عام دنوں میں بھی باآسانی خریدی جا سکتی ہیں جبکہ عید کے دنوں میں گلی محلوں میں قائم دکانوں پر ان کی فروخت عام ہو جاتی ہے۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ نقلی ہتھیاروں سے کھیلنے والے یہ بچے جب بڑے ہوں گے اور ان کو روزگار نہیں ملے گا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان میں سے اکثر جرائم کی راہ اختیار کرلیں گے۔ اگر آج والدین بچوں کے ہاتھوں میں کھلونا نما بندوقیں تھمائیں گے تو مستقبل میں انارکی اور انتشار کے سوا اور کیا ملے گا۔اسلحہ نما کھلونوں کی فروخت میں بے تحاشہ اضافہ کوئی نیک شگون نہیں۔

ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کی خواہش تو ہر پاکستانی کی ہے لیکن بچوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے والے اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی کے حوالے سے آج تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

عید الفطر سمیت دیگر تہواروں میں کھلونا نما پستول سمیت دیگر اسلحہ نما کھلونے ہر بچے کی پسند بن گئے ہیں اور کھلونا پستول سے ایک دوسرے کو نشانہ بنانا بچوں کا من پسند کھیل بن چکا ہے۔ عید کے دنوں میں بھی شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں کھلونا نما اسلحہ کی فروخت عروج پر رہتی ہے ، بچے گروپ بنا کر ایک دوسرے پر فائرنگ کی مقابلہ بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شہر میں دیگر کھلونوں کی نسبت اسلحہ نما کھلونوں کی فروخت 50 فیصد سے بھی زائد ہوجاتی ہے کھلونا ہتھیاروں میں فروخت ہونے والی مصنوعات میں ٹی ٹی پستول، ریوالور، ماؤزر، کلاشنکوف، ایم پی فائیو، ایس ایم جی، ایل ایم جی، رپیٹر اور دیگر ہتھیار بھی شامل ہوتے ہیں ۔ عیدالفطر کے موقع پر اکثر شرارتی بچے گلی محلوں اور پارکس میں اپنی کھلونا نما بندوقوں سے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں ۔

دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ عید پر کھلونا نما پستول ہی سب سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں جبکہ دیگر کھلونوں کی فروخت بہت کم ہوگئی ہے۔ شہری اور سماجی حلقوں کا کہناہے کہ اسلحہ نما کھلونوں پر حکومت کو پابندی عائد کرنی چاہئے تاکہ شدت پسند ی کا رجحان ختم ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button