کالم و مضامین

کورونا کی بھارتی قسم نئی مصیبت

تحریر: سید لعل بخاری

پچھلے کچھ دنوں سے وطن عزیز میں مثبت کورونا کیسز کی شرح میں پھر سے اضافہ نظر آنے لگا ہے، اس معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ انکشاف ہوتا ہے کہ نئے کیسز میں زیادہ تر بھارت سے آنے والا ڈیلٹا ویرئینٹ پایا جا رہا ہے۔

اس ویریئنٹ کا پھیلاؤ دوسرے ویرئینٹ کے مقابلے میں 100فیصد تک زیادہ ہوتا ہے، اس ویریئنٹ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے جہاں حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہماری ذمہ داریاں بطور ایک ذمہ دار شہری کے بڑھ جاتی ہیں، تمام لوگوں کو خواہ انہوں نے ویکسین لگوا لی ہو یا نہ لگوائی ہو کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہو گا۔

ہمارے اس عمل سے جہاں ہم ہماری فیملیز محفظ رہ پائیں گی وہیں دوسرے لوگ بھی اس مہلک بیماری سے بچ پائیں گے، کچھ لوگ ویکسی نیشن کے بعد احتیاطوں کا دامن بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے آپ کو آزاد تصور کرتے ہوئے ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال بند کر دیتے ہیں جس سے وائرس انہیں کسی بھی وقت دبوچ سکتا ہے۔

ویکسی نیشن کا مطلب 100فیصد بچاؤ نہیں بلکہ یہ ہر ایک ویکسین کی افادیت کے لحاظ سے ہوتا ہے جو اب تک کی سٹڈی کے مطابق 95 فیصد ہے جو فائزر ویکسین سے مہیا ہوتا ہے، برطانیہ کے وزیر صحت آسٹرازنیکا ویکسین کی دو خوراکوں کے باوجود گزشتہ روز کورونا مثبت پائے گئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویکسین کی 2 ڈوزز کے بعد بھی بچاؤ کا راستہ صرف اور صرف ایس او پیز پر عمل درامد ہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سازشی تھیوریوں کا شکار ہونے سے سے بھی بچنا ہو گا، ایسی افواہوں میں زرا برابر حقیقت نہیں ہوتی کہ جن میں کہا جاتا ہے کہ حکومت ہر تہوار سے پہلے جان بوجھ کر کورونا مثبت کیسز کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیتی ہے تاکہ لوگ ڈر کے احتیاطوں پر عمل کرنا شروع کر دیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں اعداد وشمار چھپانا ناممکن ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر فرض کر لیں کہ حکومت لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے جھوٹ بول رہی ہے تو پھر ہم سب کو اس جھوٹ کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button