جہلم میں نوجوان لڑکوں کی جانب سے منشیات کے بعد انتہائی خطرناک ادوایات کی شکل میں نشہ کا انکشاف

0

جہلم: چرس ، ہیرون، افیون،شراب کے بعد انتہائی خطرناک ادویات کی شکل میں نوجوان نسل نشہ کا استعمال کر رہی ہے۔ نوجوان لڑکے تیزی سے نشہ کی عادی بن رہے ہیں۔ سب سے زیادہ مہنگا نشہ کوکین، جس کی قیمت 15 ہزار روپے فی گرام بتائی جاتی ہے ، اینٹی نارکوٹکس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم ضلع بھر میں نشہ آور ادویات کے استعمال سے ماہانہ اموات نصف درجن سے زائد ہو چکی ہیں۔ والدین بچوں کی جانب سے ادویات کا نشہ کرنے سے بے خبر ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے بھی نوجوان نسل کو ادویات کے نشے سے بچانے کیلئے کوئی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔

ضلع بھر میں چرس ، ہیرون، افیون،شراب کے بعد انتہائی خطرناک ادویات کی شکل میں نوجوان نسل نشہ کا استعمال کر رہی ہے جس میں نوجوان لڑکے تیزی سے نشے کے استعمال کے عادی بن رہے ہیں۔نوجوان نسل میں نشے کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہاہے ۔ بعض تعلیمی اداروں میں منشیات کی سرے عام فروخت کی بھی اطلاعات ہیں جو پولیس اور اینٹی نارکوٹکس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

منشیات استعمال کرنیوالے نشیؤں کے مطابق سب سے زیادہ مہنگا نشہ کوکین کا ہے جس کی قیمت 15 ہزار روپے فی گرام بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ادویات یعنی گولی کی صورت میں ایم ڈی گولی جس کی قیمت 6500 روپے ہے۔اس کے علاوہ ایکس ٹی ای نشہ آور گولی کی قیمت 1500 سے 2 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ مذکورہ گولی جو بیرون ملک سے آتی ہے، اس کی قیمت 3 ہزار روپے بتائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ نیا متعارف ہونے والا نشہ جس کو آئس کا نام دیا گیا ہے، اس کا استعمال بھی بڑے گھرانوں کے طلباء اور امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کر رہے ہیں ۔

شہریوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات کے خاتمے کے لئے کردار ادا کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچایا جا سکے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.