پہلے 10 اوورز کا کھیل

0

سال 2018ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان نے اگست کے مہینے میں بطور وزیر اعظم حلف اٹھایا تو تب سے لے کر مئی کے موجودہ مہینے تک موجودہ حکومت کو ابھی صرف 9ماہ مکمل ہوئے ہیں ۔اس حکومت کو اگلے 5سال کے لیے پاکستانی قوم نے ووٹ کی طاقت سے ذمہ داری دی ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔
ہماری قوم کو کرکٹ کی زبان میں مثال دیں تو انھیں بات جلدی اور آسانی سے سمجھ آجاتی ہے چنانچہ میں بھی پاکستانی قوم کو سمجھانے کے لیے کرکٹ کی ہی مثال پیش کروں گا۔اگر ان 5سالوں میں سے ہر سال کو 10اوورز کے برابر سمجھا جائے تو ان 5سالوں کے لیے 50 اوورزبنتے ہیں۔یعنی عمران خان حکومت کو اپنی مجموعی کارکردگی دکھانے کے لیے 5سال یا 50اوورز ملے ہیں ۔جس طرح سابقہ ادوار میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے5,5سال اور50,50اوورز ملے تھے اور ان دونوں پارٹیوں نے یہ 50,50اوورز کھیل کرجتنی کارکردگی دکھانا تھی دکھا لی۔
اس لحاظ سے اگر پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے حکومتی عرصے کو دیکھا جائے تو ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا مطلب یہ ہوا کہ ابھی تو پہلے 10اوورز کا کھیل جاری ہے۔جس طرح کرکٹ کے کھیل میں 50اوورز کے کھیل میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور بعض اوقات پہلے اوورز میں اچھا نہ کھیلنے والی ٹیم آخری اوورز میں اچھا کھیل کرمیچ جیت جاتی ہے ۔بالکل اسی طرح عمران خان کی حکومت کے پہلے سال کی تکمیل سے قبل ہی ہم اس کی ناکامی کا اعلان کردیں تو یہ ناصرف ہماری حماقت ہو گی بلکہ ایسا کہنے پر دنیا ہمیں پاگل سمجھنے لگے گی۔
چنانچہ ان 10اوورزکے مکمل ہونے کے بعد اگلے 40اوورز کا کھیل دیکھ کے اندازہ ہوسکے گا کہ یہ حکومت سابقہ دو حکومتی ادوار سے بہتر رہی یا اسے ناکامی کا سامنا ہوا۔مخالف سیاسی پارٹیاں تو ان پانچ سالوں میں موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھاتی ہی رہیں گی کیونکہ اسی کی بنیاد پر انھیں اگلی حکومت ملنے کے امکانات روشن ہوسکیں گے لیکن عوام کو حقیقت پسند ہوکر سوچنا ہوگا۔
سادہ عوام صرف اسی بات کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں جو انھیں اخبارات یا ٹی وی کی خبروں سے پتا چلتا ہے۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا بھی پوری طاقت کے ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے نا صرف باآسانی ایسی معلومات تک بھی عام آدمی کی رسائی ممکن ہے جنھیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نہیں بتاتا۔چنانچہ اب کسی خبر کی حقیقت تک پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔
پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے بغور مشاہدے کے بعد جائزہ لیا جائے تو 9مہینے کے اس مختصر سے عرصے میں موجودہ حکومت کوکئی مشکلات کا سامنا بھی رہا مگر پھر بھی ان کی کارکردگی سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں بہت اچھی رہی۔حکومت سنبھالتے ہی جو سب سے پہلا امتحان تھا وہ حکومت بنانے کا تھا پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختون خوا میں تو سابقہ دور میں اچھی کارکردگی کی بنیاد پر باآسانی حکومت بنا لی مگر وفاق اور پنجاب میں دیگر پارٹیوں سے اتحاد کرکے حکومت بڑی مشکل سے بنائی گئی۔
بلوچستان میں بھی دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جاسکی۔اس صورت حال میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی کا کام تو بہت مشکل تھا ۔جبکہ عمران خان جو سوچ اورپالیسیاں لے کر آئے تھے ان کے لیے قانون سازی اور قوانین میں ترامیم بے حد ضروری تھیں۔انتخابات میں دھاندلی کا شور مچا کر تما م اپوزیشن جماعتوں نے ایک گرینڈ الائنس بنانے کی بھی کوشش کی مگر یہ الائنس فی الحال نہیں بن سکا اور مستقبل میں بھی اس کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔
دوسری طرف عمران خان نے انتخابی جلسوں میں کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا جو وعدہ قوم سے کیا تھا وہ اس وعدے پر ابھی تک مستقل مزاجی کے ساتھ قائم ہیں اور اس سلسلے میں گزشتہ 9ماہ میں جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔
نیب کی آزادنہ کارروائیوں کا یہ ثبوت ہے کہ اس سلسلے میں ناصرف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے خلاف کارروائی کی گئی بلکہ حکومتی ارکان کے خلاف بھی کیسز بنے اور حکومتی ارکان نے بھی اپنے عہدوں سے استعفے دے کر ان کیسز کا سامنا کیا۔جن میں عبدالعلیم خان ،اعظم سواتی اوربابر اعوان کے نام شامل ہیں۔یہ بھی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا قابل تحسین اقدام تھا کہ ھکومت میں ہونے کے باوجود ان کے ارکان نے ان کیسز کا سامنا کرنے کے لیے اپنے عہدوں سے استعفے دیے۔حالانکہ ماضی میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں ۔
گزشتہ 9ماہ میں عمران خان اپنی وفاقی کابینہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور تمام وزیروں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتے رہے۔یہ بھی ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھا کہ ذاتی اور پارٹی کے مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی وملکی مفادات کے پیش نظر عمران خان نے کچھ وزیر پہلے ہی سال میں تبدیل کیے اور کچھ کی وزارتوں کو تبدیل کیا تاکہ کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے کم وقت میں اچھے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔اس مختصر سے عرصے میں جو بڑے کام پاکستان تحریک انصاف حکومت نے کیے ان کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
گستاخانہ خاکوں کے خلاف عالمی سطح پر اس مسئلے کو اٹھا کر اسے بند کرایا ۔اس کام کے ذمہ داروں نے نا صرف اس مقابلے کے خاتمے کا اعلان کیا بلکہ مسلمانوں سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ اس کام سے باز رہنے کی یقین دہانی بھی کرائی ۔بھارت نے ہمت کرتے ہوئے جب پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تو عمران خان نے فورسز کو اس سلسلے میں فوری جواب دینے کے لیے آزاد کردیا اور دو ہی روز میں بھارت کو منہ توڑ جواب مل گیا، ہماری فوج نے ناصرف ان کے 2جنگی جہاز گرائے بلکہ ایک پائلٹ کو زندہ گرفتا ر بھی کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے جب پاکستان کو دھمکی دی تو انھیں بھی انہی کی زبان میں بھرپور جواب دیا گیا۔پاکستان بھر میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک کامیاب آپریشن ہوا جس کی بدولت شہر اور سڑکیں کھلی ہوگئیں اور عوام نے سکھ کا سانس لیا۔مختلف شہروں میں پناہ گاہوں کا قیام عمل میں آیا جس کی بدولت کئی بے سہارا افراد کو چھت نصیب ہوئی ۔مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔حیدر آباد یونیورسٹی کا سنگ بنیا د رکھا گیا۔
ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے قریب القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔غریب اور نادار افرادکے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین اور فنکاروں کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صحت کارڈ جاری کیا گیا۔ریلوے کے ریونیو میں 45ارب کا اضافہ ہوا۔پی آئی اے کے خسارے کے خاتمے کے لیے اہم عملی اقدامات اٹھائے گئے۔کراچی شہر کے لیے 18بڑے اور اہم منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔سابقہ حکومتوں کے لیے ہوئے 23کھرب کے قرضے واپس کیے گئے۔احساس پروگرام کے ساتھ یتیم اور غریب افراد کے لیے مفت گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا۔
چین کے ساتھ 19اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔کراچی سے پشاور تک پاکستان ریلوے کا ڈبل ٹریک تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا۔نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے اجرا کا اعلان کیا گیا۔دنیا کی 5بڑی کارساز کمپنیوں نے پاکستان میں پلانٹ لگانے کا اعلان کیا گیا۔مختلف ممالک کے لیے ویزہ فری پالیسی کا اعلان کیا گیا۔مواصلاتی نظام کی آمدن میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔آن لائن ویزہ سسٹم کا اعلان کیا گیا۔فاٹا کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی فنڈز کا اجرا کیا گیا۔
بروقت ادائیگیوں کے باعث بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ پر مکمل قابو پالیا گیا جس کے باعث گزشتہ 11سال کے بعد پاکستانی قوم نے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے بغیر رمضان المبارک میں سکھ کا سانس لیا۔ اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کی قرارداد منظور کی گئی ۔ان کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کیے جانے والے اقدامات میں سے اگر صرف تعلیم اور صحت کے شعبہ جات کو ہی لیا جائے تو ان کے لیے اسی طرح کے ایک الگ کالم کی ضرورت ہوگی ۔اس لیے ان کا ذکر کسی اور کالم میں ہوگا تفصیل کے ساتھ۔
ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کے باعث معاشی صورت حال قدرے تسلی بخش نہیں رہی۔جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن عمران خان اور ان کی ٹیم اس سلسلے میں ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن کی بدولت ان شاء اللہ جلد اس معاشی بحران پر قابو پالیا جائے گا ۔ پاکستان سے باہر موجود پاکستان کے دشمن تو ہمہ وقت پاکستان کی ترقی کے راستے میں روڑے اٹکاتے ہی رہتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں موجود بھی کچھ لوگ صرف سیاسی دشمنی کے باعث ان دنوں ڈالر کی زیادہ خریداری کے باعث ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ بن رہے ہیں۔
دوسری طرف کچھ تاجروں نے ذخیرہ اندوزی کرکے چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔لیکن عمران خان ایک قابل شخص ہونے کی وجہ سے ان تمام سازشوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اورجلد ہی جب وہ اس کے خلاف اقدامات اٹھا کر اس معاشی بحران پر قابو پائیں گے تو یہ مہنگائی کا جن بھی قابو میں آ جائے گا۔محب وطن پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر ڈالر کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کردی ہے امید ہے ان کی یہ مہم بھی ڈالر کی قیمت میں کمی کا باعث بنے گی۔
گزشتہ 9میں موجودہ حکومت کی کارکردگی مختصر طور پر آپ کے سامنے رکھی ہے۔لیکن ابھی اس حکومت کے پاس کارکردگی کے اظہار کے لیے طویل وقت ہے۔اگر ہم خود کو انصاف پسند قوم کہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کو بھی 5سالہ دور اقتدار مکمل کرنے کا موقع دیں۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کو اگر ہم نے تین تین مرتبہ برداشت کیا تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کم از کم ایک مرتبہ تو یہ موقع دینا ہوگا کہ وہ انتخابی جلسوں میں عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرسکیں۔5سال کے بعد اگر اس حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہوئی تو اگلی بار ووٹ کے ذریعے کسی اور سیاسی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔لیکن پہلے 10اوورز میں ہی 50اوورز کے میچ کا نتیجے کا فیصلہ کرلینا ناانصافی اور حماقت ہوگی۔
 
 
 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.