جہلماہم خبریں

محرم الحرام؛ امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے تمام مکاتب فکر کے علماء کا کردار انتہائی کلیدی ہے۔ پرویز اختر

جہلم: ڈپٹی کمشنر راؤ پرویز اختر نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے تمام مکاتب فکر کے علماء کا کردار انتہائی کلیدی ہے تاکہ اس مقدس ماہ میں ملک دشمن عناصر کو مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو پھیلانے کا موقع نہ مل سکے۔

یہ بات انہوں نے ضلعی امن و بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عمر افتخار شیرازی اور ایس پی آپریشنز عطاء کے علاوہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے شرکت کی۔

ڈپٹی کمشنر راؤ پرویز اختر نے کہا کہ ملک اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور ملک دشمن عناصر ملک میں قائم امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی کی فضاء کو نقصان پہنچانے کے لئے فرقہ وارانہ اور مذہبی منافرت پر مبنی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو کنٹرول کرنے کے لئے تمام علماء کا کردار انتہائی اہم ہے اور علماء کی مشاورت سے انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے محرم الحرام کے دوران ضابطہ اخلاق پر پابندی کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مثبت سوچ سے آگے بڑھنا ہوگا، امن و سلامتی کے لیے مثبت سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے جس سے معاشرہ ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہوگا۔ امن کمیٹی کے ارکان پر ایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ لوگوں تک محبت اور بھائی چارے کا پیغام پہنچائیں،ایسی کسی بھی بات سے پرہیز کریں جس سے کسی کی دل عذاری ہو۔

ڈپٹی کمشنر راؤ پرویز اختر نے کہا کہ محرم الحرام کے موقع پر مساجد اور امام بارگاہوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا اور جہاں بھی ضروری ہوا، پولیس کی اضافی نفری بھی فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علماء نے امن و امان کو برقرار رکھنے اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تجاویز اور آراء سے آگاہ کیا۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. محترم جناب ڈپٹی کمشنر صاحب۔آپ ضلع جہلم میں پنجاب حکومت کی طرف سے مقرر کردہ انتظامی افسران کی سربراہی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔ماہ محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر کئے جانے والے اقدامات قابل ستایش ہیں۔جو آپکی لگن محنت اور فرایض کی بجا آوری کے عکاس ہیں۔لیکن کچھ اقدامات ایسے بھی ہیں جو آپکی نظروں سے پوشیدہ رکحے جا رہے ہیں یا بوجہ آپ ان سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ایسے اقدامات آئین اور قانون کی حکمرانی اور سر بلندی کو بھی دعوت فکر دے رہے ہیں۔کیا یہ اقدامات اسلامی فلاحی ریاست کے آئینہ دار ہو سکتے ہیں۔ایک اسلامی ریاست میں کونسا قانون ہے جو مساجد کو بزور طاقت بند کرنے کی اجازت دیتا ہے۔آپ انتظامی افسران کو اس امر کا پابند بنائیں کہ اس حرمت والے مہینے میں تمام مقامات پر بھر پور سیکورٹی فراہم کریں تاکہ فرزندان اسلام سکون اور آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض سر انجام دے سکیں ۔مساجد کو نماز کے لئے بند کر دینا کسی مسئلہ کا حل نہیں ۔اس امر پر خصوصی غور فرمائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button