نظریہ اور نظریاتی! — تحریر: پروفیسر افتخار محمود

0

نظریہ بنیادی طور پر ایک سائنسی اصطلاح ہے ۔ سائنس کئی طرح کی ہوتی ہے مثلاً طبعیاتی ، کیمیائی ، ریاضیاتی ، حیاتیاتی ،نفسیاتی ، نباتاتی ، جماداتی ، معاشی ، سیاسی اورمعاشرتی عمرانی وغیرہ ۔ نظریہ اصل میں ایک عمل کے بار بار کیے جانے کے نتیجے میں آنے والے یکساں نتائج کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے۔ نظریہ کی بنیاد میں مشاہدہ ، تجربہ ، نتائج اور پیش گوئی پرمبنی نتیجہ یا تجزیہ ہوتا ہے ۔ پیش گوئی کو ہم نظریہ یا تجزیہ بھی کہتے ہیں ۔

نظریہ اصل وہ اصول یا رائے ہوتی ہے جومعاشرے کے افراد کی سمجھ میں بآسانی آسکے مزید یہ کہ اس رائے یا اصول پر آزادی سے بحث کی جاسکے اسکے مثبت اور منفی پہلوئوںکی وضاحت کیا جاسکے یہ کچھ ماہرین کی طویل تحقیق کے نتیجے میں قائم کیا گیا نکتہ ہو، اگر کسی رائے یا اصول پر بحث کی پابندی ہو یا شک تک نہ کرنے کی پابندی ہو تو یہ کوئی آفاقی عقیدہ ہی ہو سکتا ہے نظریہ ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ زیر نظر سطور کا مقصد اصل میں سیاسی نظریہ کی وضاحت کرنے کے لیے منتخب کی جا رہی ہیں ۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں پاکستان میں الیکشن کی آندھی سونامی جیسے زوروں پر تھی تو سیاسی حلقوں میں نظریہ یا نظریاتی کی بڑی بحث جاری تھی لیکن چونکہ سیاسی کارکنان کی اکثریت لفظ نظریہ کی ہیت سے بہت کم حد تک واقفیت رکھتی ہے ۔

ان مشاہدات کی روشنی میں نظریہ کے لفظ کو بطور عنوان منتخب کیا ہے تا کہ ہمارے سیاسی کارکنان کو نظریہ کی بنیادی حیثیت کا اندازہ ہو سکے اور پھر وہ اپنے سامنے موجود سیاسی پارٹیوں کی فکر کے متعلق یہ سمجھ سکیں کہ کس کا کون سا نظریہ ہے یا سرے سے کوئی نظریہ ہے ہی نہیں ۔ پاکستان کے دس کروڑ سے زائد رائے دہندگان کے لیے نظریہ سے واقفیت واقعی ایک چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ جس طرح مادے کی سائنس ہوتی ہے اسی طرح معاشرے کی ایک ایک سائنس ہوتی ہے جس کو معاشی یا سیاسی سائنس کو نام دیا جاتا ہے ۔ سائنس بھی ایک تحقیقی عمل کا نام ہے جو ہمارے پاکستان میں ہوتا دکھائی ہی نہیں دیتا ۔ نظریہ جیسا کہ پہلے بھی کہہ دیا گیا ہے ایک طویل تحقیق کے بعد قائم ہوتا ہے ۔

ہمارے معاشرے کا المیہ رہا ہے یہاں سیاسی نظریات کو پنپنے کا موقع تک فراہم نہیں کیاگیا ۔ معاشرہ طبقات میں تقسیم رہا ہے اور اس تقسیم یا خلیج کو مزید بڑا کیا جاتا رہا ۔ آج معاشرہ مختلف عقائد، مسالک اور فرقہ واریت کی تقسیم میں پھنسایا جا چکا ہے لیکن نظریہ نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے جس طرح عقائد کو بغیر کسی شک و شبہ کے مان لینے کا حکم ہوتا ہے اسی طرح نظریات بھی یہاں جذباتی طور پر قائم کر لیے گئے ہیں ۔ سیاسی افق پر اس وقت پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف جیسی بڑی جماعتیں منظر عام پر ہیں ان میں عوامی نیشنل پارٹی ، پاکستان عوامی تحریک، جیسی91 سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں ۔ابتدائی سطور میں جس طرح نظریہ کی تعریف کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس کو سامنے رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نظریہ ایک فکر کا نام ہوتا ہے۔

لغت کے اعتبار سے یہ ایک رائے یا اصول بھی ہوتا ہے جیسا کہ چند حکمران طبقات اشرافیہ کی رائے ہے کہ معاشی طور پر سب لوگ برابر نہیں ہو سکتے اور یہ سب کچھ آفاقی تقسیم قرار دے دیا جاتا ہے بعض فورم اس بات کو نظریہ قرار دے دیتے ہیں آج کل پاکستان کے عوام میں ایک جو رٹ لگی ہوئی کہ سیاسی پارٹیوں کے نظریاتی کارکن ہیں آئیے دیکھتے ہیں کہ کون کتنا نظریاتی ہے یا پھر کسی بہت بڑے واہمے کا شکار ہے ۔سیاست یا معیشت کی فکر کے بغیر کوئی معاشرتی یا سماجی نظریہ قائم نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ جہاں تک پاکستان مسلم لیگ ن کا تعلق ہے تو وہ جس معاشی فکر کی مالک ہے اس کی وضاحت بڑی آسان ہے شروع سے یہ جماعت مسلم اشرافیہ کی جماعت رہی ہے یہاں تک کہ 28مئی 1937ء کو علامہ محمد اقبال نے قائد اعظم کے نام اپنے آخری خط میں واضح لکھ دیاتھا ’’(مسلم ) لیگ کو آخر کار یہ فیصلہ کرناہو گا کیا وہ ہندوستان کے مسلم اشرافیہ کی پارٹی کے طور پر رہنا چاہتی ہے یا پھر مسلم عوام کی پارٹی کے، جن کی ابھی تک پارٹی کے امور میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔

پارٹی کے نئے آئین کے مطابق سب سے پہلے سب سے اہم اور بڑے عہدے بالا دست طبقات کی اولادوں کو ملیں گے ، درمیانے اور چھوٹے عہدے وزیروں کے رشتے داروں اور دوستوں کو ملیں گے ، ویسے ہمارے اس سیاسی ادارے نے عام غریب مسلمانوں کی حالت زار بدلنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا غربت اور روٹی کا مسئلہ بہت سنگین ہے ۔‘‘ یہی صورت حال پاکستان مسلم لیگ میں قیام سے اب تک قائم ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ کسی بھی نام کی ہو کے سکی دور حکومت میں عوام نے کبھی ترقی نہیں کی اور نہ ہی امید دکھائی دیتی ہے آج تومسلم لیگ ن کے امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی کے ذاتی اساسا جات کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال واضح ہو جاتی ہے کہ مسلم لیگ ن کا اصل منشور کیا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پرانے انٹرویو کا حوالہ دوں گا جو انہوں کسی غیر ملکی ٹیلی ویژن کو دیا تھا ۔

معاشی نظام کے سوال کے جواب میں موصوف نے ببانگ دہل کہا تھا کہ وہ ’’آزاد منڈی کی معیشت ‘‘ پر مکمل یقین رکھتے ہیں ۔ یعنی جو کوئی جتنا چاہے جس طرح چاہے کمائے جمع کرے اپنی ذاتی ملکیت میں رکھے وہ آزاد ہے ۔ قارئین محترم یاد رکھیں جہاں نجی ملکیت کی اس طرح کی بے ہنگم آزادی ہو وہ عوام ترقی کا خواب کبھی نہیں دیکھ سکتے ۔ ملکیت میں زمین سے لے کر دولت اور سرمایہ تک شامل ہوتا ہے ۔ یہ تو ہو گیا مسلم لیگ ن کا نظریہ جو اس جماعت کے کارکنان کو دور دور سے سمجھ تک نہیں ہے ۔ عام یا پرانے کارکنان کا ایک تصور یہ ہے کہ مسلم لیگ پاکستان کی بانی جماعت ہے اور بس قائد نواز شریف کو سامنے رکھتے ہوئے ووٹ دے دیا جاتا ہے ۔ اب ذرا بات ہوجائے پاکستان تحریک انصاف کی جس نے آج تک اپنا متفقہ منشور چھاپہ شدہ شکل میں عوام کے لیے پیش کرنے جسارت کی ہی نہیں ہے جس سے کوئی نظریہ واضح ہو سکے ۔ پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان نے جو گیارہ نکاتی پروگرام پیش کیا یا الیکشن 2018ء میں نمایا ں کامیابی کے بعد اپنے پہلے خطاب کے دوران جن نکات کی انہوں نے بات کی یہ ان کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے مزید یہ کہ انہوں نے ملک میں انصاف کے قیام کے لیے تحریک کے طور پر سیاست میں حصہ لیا ہے لیکن اس انصاف کی آج تک انہوں نے تعریف نہیں کی کہ نجی ملکیت کی صورت حال کیا ہو گی ۔ کیا پی ٹی آئی ذرائع پیداوار ( زمین ، صنعت یا خدمات ) کی نجی ملکیت کو جوں کا توں رکھنے پر یقین رکھتی ہے یا نجی ملکیت سے پاک غیر طبقاتی معاشرہ قائم کر کے سماجی مساویانہ پروگرام پر یقین رکھتی ہے ۔

تاریخ اور تحقیق تو یہ بتاتی ہے کہ اقتدار کی کرسی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے لیکن جب پی ٹی آئی کے انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مندوں کی تعداد کی طرف دیکھا جا ئے تو معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام اراکین یا مرکزی عہدیداران اس جماعت کے ساتھ صرف اور صرف اقتدار تک پہنچنا ہی اپنا بنیادی مقصدتصور کرتے ہیں ۔ پھر یہ بات بھی واضح ہے پی ٹی آئی ہو یا مسلم لیگ ن ایک ہی سکے کے دو رخ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پہلے سے موجود گلے سڑے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ عوام کے خون چوسنے والے نظام کو ہر حالت قائم و دائم رکھنا چاہتے ہیں اور زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ سسٹم کو بچانا اولین ترجیح ہے ۔ دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس گلے سڑے نظام کی بیخ کنی یا خاتمے کی بات ہر گز نہیں کی جاتی اسی وجہ سے ان کا نظریہ صرف اور صرف اقتدار کی حوس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ اب ذرا بات ہوتی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی جس کی عمر 51سال ہے اس عرصے میں دو/تین مرتبہ اندرونی اور بیرونی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے بنیادی نظریے میں تبدیلیاں کر چکی ہے ۔ پی پی پی کا پہلا دور 1967ء سے 1977ء تک مانا جاسکتا ہے جس میں چار بنیادی نکات تھے جو کچھ اس طرح تھے ۔

اسلام ہمارا دین ہے ، سوشلزم ہماری معیشت ہے ، جمہوریت ہماری سیاست ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔ ان چاروں نکات میں ایک نئی اور خاص بات تھی جو عوام کو صیحح انداز میں شاید کسی حد تک سمجھ آبھی گئی وہ تھا سوشلزم ہماری معیشت ہے ، سوشلزم جو ایک ایسا معاشی نظام ہے جس کے تحت سب سے پہلے نجی ملکیت کا مکمل خاتما کر کے تمام ذرائع پیداوار( زمین ، دولت ، سرمایہ اور صنعت تک ) کو ملک کی پوری محنت کش آبادی کی ملکیت میں تقسیم کر کے برابر ترقی کا سفر شروع کیا جاتا ہے ۔ اس نظام معیشت کے بانی ممتاز معیشت دان کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز ہیں جبکہ پاکستان میں رائج لوٹ کھسوٹ پر مبنی معاشی/ معاشرتی نظام کے بانیان مغربی آدم سمتھ ، مارشل ، ریکارڈو اور جے ایس مل جیسے کئی معیشت دان ہیں ۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ابتدائی سالوں میں اولذکر معاشی نظام لانے کی بات کرکے ایک نئے نظریے کی بات کی تھی پہلے پانچ سالہ دور حکومت میں اس معاشی نظام کو رائج کیوں نہ کر سکی یہ ایک قابل بحث نکتہ موجود ہے صرف اس نظام کی وجہ سے اس پارٹی کے ساتھ منسلک کارکن اپنے آپ کو کسی حد تک نظریاتی کہلا سکتے ہیں ورنہ جیالے کہلاتے ہیں جو صرف بانی پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو یا محترمہ بے نظیر بھٹوشہید کی شخصیات کی قربانیوں سے متاثر ہیں ان کے جذبوں سے متاثر ہیںپیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کی طرف پیش کردہ نئے منشور پر غور کیا جائے تو تقریباً اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو شہید کی طرح کا منشور ہے ۔

صرف برائے راست سوشلزم کی بات نہیں کی جا رہی ہے ۔ جہاں تک عوامی نیشنل پارٹی ،جماعت اسلامی یا کئی دیگر علاقائی اور مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے توہر کوئی ایسی جماعت جو ملک کے معاشی نظام کو یکسر تبدیل کرنے کی بات نہیں کرتی وہ کوئی نظریاتی جماعت نہیں ہوسکتی نہ ہی کوئی کارکن نظریاتی ہوتا ہے صرف کارکن ایک تعلق یا دھڑے بندی کا شکار ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو نظریاتی تصور کرنے لگتے ہیں ۔ جو کہ درست نہیں ہے اس لیے تمام کارکنان کو علم ہونا چاہیے کہ نظریہ یا نظریاتی کا اصل مطلب کیا ہے ؟جہاں تک مذہبی فکر کے ساتھ منسلک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو آج دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں کہیں مذہبی سیاسی پارٹی حکومت میں دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی کسی معاشی نظامی میں بڑی تبدیلی پر یقین رکھتی ہیں ۔ عمومی طور پر سزائوں کے ذریعے جرائم کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے جو ایک تصور تک تو ہو سکتا ہے لیکن عملی طور پر کوئی حقیقت بہت کم ہے ۔

میں تمام نظریاتی کارکن کہنے والے محترمین سے ملتمس ہوں کہ وہ پہلے نظریہ کے معانی اور تشریح سے واقفیت حاصل کریں پھر فیصلہ کریں کہ وہ جس سیاسی جماعت یا گروہ کے ساتھ منسلک ہیں وہ کتنا نظریاتی ہے یا کسی پروگرام پر یقین بھی رکھتا ہے یا بالکل حوس اقتدار کا متمنی ہے ۔ نظریاتی ہونا بہت بڑی بات ہے کاش کہ ہم نظریات کے متعلق جانتے بھی ہوں یاد رہے کہ دنیا بھر میں معاشی یا سیاسی اعتبار سے دو بڑے نظریات ہیں ایک لا محدود بے ہنگم نجی ملکیت کے ساتھ جاگیرداری اور سرمایہ داری کو تحفظ دیے ہوئے ہے جبکہ دوسرا اشتراکی ( سوشلسٹ ) نظام معیشت جو نجی ملکیت کی مکمل طور پر نفی کرتا ہے اور ہر شہری کو ملک کے تمام ذرائع پیداوار کابرابر مالک بنا دیتا ہے ترقی ہویا تنزل برابر ہوتا ہے صرف ایک مثال سے بات واضح ہوجائے گی ۔

2012ء ہانگ کانگ کی حکومت کو سالانہ آمدنی میں منافع ظاہر ہوا تو حکومت نے اپنے معیشت دانوں کو ٹاسک دیا کہ یہ منافع ملک کی عوام میں کیسے تقسیم کیا جائے تو ماہرین معاشیات نے پہلی تجویز دی کہ تین ماہ تک بجلی اور گیس کے بل عوام سے وصول نہ کیے جائیں لیکن منافع کی مقدار تاہم باقی تھی حکومت کی طرف سے پھر حکم ہوا کہ نظر ثانی کی جائے کیونکہ منافع کی مقدار ابھی قومی خزانے پر بوجھ محسوس کی جارہی تھی چنانچہ ماہرین اقتصادیات نے مشورہ دیا کہ ہانگ کانگ کے سرکاری شہریوں میں سات ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے تقسیم کر دیے جائیں تو حساب برابر ہوجائے گا ۔ قارئین محترم یہ وہ نظریہ ہے جس پر یقین رکھنے والے واقعی نظریاتی کہلانے کے لائق ہوسکتے ہیں ورنہ فکری صورت حال کی تربیت کی از حد ضرورت ہے ۔

فون نمبر :۔0310/03065430285
[email protected]

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.