پنڈدادنخاناہم خبریں

اگر یاسمین راشد ملک میں علاج کرواسکتی ہیں تو شہباز شریف کیوں نہیں؟۔ فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے تاہم شہباز شریف بیرون ملک جانے کی اجازت کے خلاف اپیل کا حق استعمال کریں گے، 20سالوں میں شریف فیملی نے لوٹ مار کر کے اربوں ڈالر جائیدادیں بنائیں۔

وہ اتوار کو پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شریف فیملی میں بچہ بعدمیں پیدا ہوتا ہے لیکن اپارٹمنٹ پہلے اس کے نام ہوتا ہے،قانون نواز شریف فمیلی اور عام لوگوں کے لئے برابر ہونا چاہیے،چھوٹے چوروں کو بھی بڑے چوروں جیسے حقوق ملنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف یہ جدوجہد عمران خان کی نہیں پورے معاشرے کی ہے،ہر ادارے کو اس میں کردار ادا کرنا چاہیے، ہم تو امید کررہے تھے کہ نیب اور عدالت شہباز شریف کی نواز شریف گارنٹی کا پوچھیں گے کہ اب تک وہ وآپس کیوں نہیں آئے لیکن شہباز شریف کی ایک ہی دن میں درخواست کا دائر ہونا، نوٹس ہونا، پراسکیویشن کو نہیں سنا گیا اور فوری فیصلہ ہوجاتا ہے۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ گزشتہ ایک دو دنوں سے شہباز شریف کے بیرون ملک روانگی کے حوالے سے جو معاملات جل رہے ہیں، اس پر بات کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ’پی ٹی آئی‘ میری یا شہزاد اکبر کی شبہاز شریف سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے اور نہ شریف فیملی نے جو پیسے لوٹے ہیں وہ ہمارے ہیں جس کے لئے ہم اقدامات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1988سے1999 پھر 2008سے 2018 کے 20سالوں میں منظم کرپشن کی گئی۔ پاکستان میں دو خاندانوں نے باری باری حکومت کی جس میں شریف فیملی کا ذیادہ حصہ رہا، ان ادوار میں اربوں روپے پاکستان سے چوری کیے گئے اور پیسہ مختلف طریقوں سے باہر بھجوا کر جائیدادیں خریدیں گئیں۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ نواز شریف اور ان کے بچے جہاں رہائش پذیر ہیں وہاں پر اربوں روپے مالیت کے 4اپارٹمنٹس ہیں جبکہ برطانیہ میں ایک اپارٹمنٹ شریف فیملی کے نام پر ہے صرف برطانیہ کے اپارٹمنٹ کی قیمت 45ملین پاونڈ ہے جبکہ جائیدادوں کی مجموعی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے ٹی وی پر آکر کہا کہ لندن تو کیا پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں ہے لیکن جب ایک جرمن اخبار نے دنیا کے بدنام ترین حکمرانوں کی جائیدادوں کی کہانی پانامہ سکینڈل کے نام سے سامنے آئی اس میں ایک چیز مشترک تھی کہ غریب ممالک کے حکمران امیر ترین ہیں، ان حکمرانوں نے اپنے ملک کا پیسہ امیر ملکوں میں انوسٹ کیا، شریف فیملی کا نام بھی اس سکینڈل میں آیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کرپشن کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب پوری قوم کو اس میں حصہ ڈالنا ہے جس میں عدالتیں،پراسکیوشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ ہمارے اختیارات لامحدود نہیں ہیں، لوگوں کو پکڑ کر کہا جائے کہ پیسے واپس کریں تو رہائی ملے گی،ہمار ے ہاں عدالتی اور پراسکیوشن کا نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے 400ارب روپے ملزمان سے لیکر قومی خزانے میں جمع کرائے، یہ شاندار کارکردگی ہے،عدالتوں نے پانامہ کیس سمیت شاندار فیصلے کیے جس سے پاکستان میں یہ تاثر بنا کر کرپشن کے خلاف عدالتی اہم کردار ہے۔ شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نظام کی بوسیدگی ہے،ایک دن میں درخواست دائر ہوئی، نوٹس ہوا، ایک ہی دن باہر جانے کی اجازت مل جاتی ہے،ہو سکا ہے کوئی ایمرجنسی کا معاملہ ہے لیکن پراسکیویشن تک کو نہیں سنا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد شہباز شریف سے کئی ذیادہ بیمار ہے اگر وہ پاکستان میں رہ کر علاج کررہی ہیں تو نواز اور شہباز کو چاہیے کہ وہ بھی اپنا علاج پاکستان میں کرائیں۔ شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت ہزاروں قیدیوں کے حقوق کو بھول کر جیل سے باہر علاج کرانے کی اجازت دی گئی۔ شہباز شریف کی گارنٹی کیسے قبول کی جائے جو دوسرے مفرور کی گارنٹی پوری نہیں کرسکے۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ زرداری نے مریم بی بی کو کہاتھا کہ تحریک چلانا چاہتے ہیں تو نواز شریف کو وطن لائے،خود اپوزیشن بھی جانتی ہے کہ نواز شریف مفرور ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ ملک گیر الیکشن لڑنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی،(ن) لیگ اور پی پی علاقائی جماعتیں بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو پاکستان سے باہر نہیں جانے دینا چاہتے، ان کے خلاف مقدمات انجام تک پہنچیں گے، مریم اور شہباز شریف سزا یافتہ ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button