کالم و مضامین

للِہ تا جہلم روڈ کی تعمیر 13ارب کے فنڈ منظور، جلالپورشریف نہر کے بعد فواد چوہدری کا دوسرا بڑا منصوبہ

تحریر: محمد شہباز بٹ

جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان عرصہ دراز سے محرومیوں کا شکار تھی ،سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی تھیں ،پانی کی قلت سے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات درپیش تھیں ،نہری منصوبہ شروع نہ ہونے سے زمینیں بنجر جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے لوگ وبائی امراض کا شکار ہو رہے تھے۔

نہ کھیلوں کے میدان آباد تھے نہ ہی بنیادی مراکز صحت میں سہولیات تھیں تعلیمی اداروں میں بھی سہولیات کا فقدان تھا اسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں تھے تو اسکولوں میں اساتذہ کی کمی تھی لیکن یہاں سے منتخب ہونے والے نمائندے نہ ایوان بالا میں اپنے علاقہ اور عوام کے حقوق کی بات کرتے نہ ہی اپنی سیاسی قیادت سے علاقہ کی تعمیروترقی کے لیے فنڈز مانگتے ۔

یوں کہہ لیں کہ ایک اجڑی ہوئی ریگستان نما ریاست ہائے پنڈدادنخان فواد چوہدری کو سیاسی طور پر ورثے میں ملی جس کی ہر گلی،ہرنالی ،ہر سڑک اور منصوبے کو الف سے شروع کرنا پڑا،ایسے حالات میں جب ملک آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے ممبران اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے فنڈز کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس اجڑی بستی کو سنوارنے کی ٹھان لی اور الیکشن مہم کے دوران عوام سے کیے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عملی طور ہر اقدامات کیے سب سے پہلے انہوں نے عوام کا درینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے جلالپورشریف تا کندووال نہر کا منصوبہ شروع کروایا جو شائد پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا نہری منصوبہ ہے پینتالیس ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ تین مرحلوں میں مکمل ہو گا، اس سے ایک او ستر ایکڑبنجر زمینیں آباد ہوں گی کسان خوشحال اور علاقہ سرسبز و شاداب ہو گا ،ابھی نہری منصوبے کے پہلے مرحلے میں ہی پنڈدادنخان کی بنجر زمینیں سونے کے بہاؤ بکنے لگی ہیں۔

نہر کے بعد سب سے بڑا مسئلہ للّٰہ تا جہلم روڈ کی تعمیر تھی سڑک کی خستہ حالی سے نہ صرف حادثات معمول بن گئے تھے گاڑیاں تباہ ہو رہی تھیں بلکہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہو گیا تھا ایک سو دس کلو میٹر لمبی سڑک کی تعمیر کے لیے تیرہ ارب روپے کی خطیر رقم درکار تھی ،وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سے متعدد بار اس روڈ کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔

طویل جدوجہد اور کاوشوں کے بعد بالآخر حکومت پنجاب سے للّٰہ جہلم روڈ کی تعمیر کے لیے تیرہ ارب کا فنڈ مختص کر دیا ہے، اس کی تعمیر اب جلد شروع ہونے والی ہے اس پے فواد چوہدری کے چند قریبی ساتھیوں اور سیاسی حریفوں نے پوائنٹ سکورنگ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوئے اسکے علاوہ کھیوڑہ کا فلڈ لائٹ فٹبال اسٹیڈیم بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے پنڈدادنخان کے اسپورٹس کمپلیکس کا کام بھی جاری ہے۔

این اے67میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ترقیاتی کاموں کا جال بچھا رکھا ہے تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کیا گیا ،نواحی علاقوں کی سڑکیں بنوا کر لوگوں کی شہروں تک رسائی آسان بنائی،وہ بنیادی مراکز صحت اور ڈسپنسریاں جو بھینسوں کے باڑوں میں تبدیل ہو چکی تھی وفاقی وزیر کی کاوشوں سے آباد ہوئیں ڈاکٹرز اور عملے کی کمی کو پورا کیا گیا آج عوام کو صحت کی سہولتیں انکی دہلیز پر میسر ہیں۔

وفاقی وزیر کا دل اپنی حلقے کی عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے اس بات کا ثبوت انہوں نے ٹی ایچ کیو اسپتال پنڈدادنخان میں ایک نجی کمپنی سے دو وینٹی لیٹرز لگوا کر ثابت کیا شائد یہ پہلا تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال ہو گا جہاں یہ سہولت میسر ہو گی ،وفاقی وزیر فواد چوہدری نےپینے کے پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے جلد علاقہ تھل کا یہ مسئلہ بھی حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سب سے بڑی بات کہ تحصیل پنڈدادنخان ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ ذہنی اور سیاسی پسماندگی کا بھی شکار تھی اس حلقے کے ترقیاتی کام کروا کر تو پسماندگی دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سیاسی پسماندگی فواد چوہدری نے دور کر دی آج ہر طرف سے فواد چوہدری کی آواز سنائی دیتی ہے لیکن وفاقی وزیر فواد چوہدری اور انکے بھائی فیصل چوہدری کو لوگوں کی ذہنی پسماندگی دور کرنے میں وقت درکارہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button