خواتین کالج سنگھوئی

0

وہ تیرے نصیب کی بارش کسی
اور چھت پے برس گئی

یہ بات عیاں ہے کہ وطن عزیز میں کوئی بھی منصوبہ ہو اسے شروع کوئی کرتا ہے اور کریڈٹ کوئی اور لیتا ہے، مثال کے طور پر اگر اگر ایٹمی قوت بننے کی بات کی جائے تو ذوالفقار علی بھٹو،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کس طرح پاکستان لائے اور کیسے ایٹم بم بنانے کا منصوبہ شروع ہوا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں پھر اس منصوبے کو جنرل ضیاء الحق دور میں آگے بڑھایا گیا لیکن اسکا پھل بطور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کھایا اسطرح ملکی سطح پر بے شمار میگا پراجیکٹ ہیں جو شروع کسی نے کیے اور انکا کریڈٹ کسی اور نے لیا۔

اسی طرح اگر جہلم کی بات کریں تو ملوٹ پل کا منصوبہ کسی اورنے شروع کیا اور کریڈٹ کسی اور نے لیا،سب کے علم میں ہے جہلم میں سوئی گیس کون لیکر آیا اور اسکا کریڈٹ کون لے رہا ہے،سبکو یاد ہے دریا کے کنارے گرین بیلٹ کا منصوبہ گورنر مرحوم چوہدری محمد الطاف حسین نے شروع کروایا لیکن انکی وفات کے بعد جہلم کے مقامی سیاستدانوں کی عدم دلچسپی اور کمیشن کھاؤ پالیسی کی بناء پر اس منصوبے کے فنڈز Lapsہو گئے۔

گزشتہ دور حکومت کی اگر بات کریں تو 2013کی انتخابات میں ضلع جہلم سے پاکستان مسلم لیگ(ن)نے کلین سویپ کیا لیکن چوہدری لال حسین جو پہلی مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے انکے علاوہ کسی عوامی نمائندے نے میگا پراجیکٹس کی بات نہ کی سب گلیوں اور نالیوں کی باتیں کرتے رہے جبکہ چوہدری لال حسین نے سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف سے نالہ گھان (نوگراں) پر پل،سنگھوئی میں خواتین کالج اور دریا کنارے گرین بیلٹ کی منظوری کے علاوہ نواحی علاقوں میں متعدد گلیاں اور سڑکیں بھی تعمیر کروا کر شہنشاہ تعمیرات کا خطاب حاصل کیا۔

نوگراں کے مقام پر نالہ گھان پر پل کی تعمیر اور اسکا افتتاح تو گزشتہ دور حکومت میں ہی مکمل ہو گیا اگرچہ اس پل کی تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل پر تاحال سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں لیکن اس پل کی تعمیر کا کریڈٹ بر حال شہنشاہ تعمیرات کو ہی جاتا ہے،دریا کے کنارے گرین بیلٹ کا منصوبہ تو گورنر مرحوم چوہدری محمد الطاف حسین نے منظور کروایا لیکن فنڈز لیپس ہونے کے بعد اسے دوبارہ چوہدری لال حسین نے منظور کروایا لیکن اسکے افتتاح کا کریڈٹ کون لے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

یونین کونسل دارا پور،سنگھوئی،چوٹالہ اور علاقہ بائی دیس کی بچیوں کو میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا تھا،وسائل کی کمی اور شہر کے کالجز میں داخلے نہ ملنے کی وجہ سے متعدد لڑکیاں تعلیم کے اعلی زیور سے محروم ہو کر گھروں میں بیٹھ جاتی تھیں۔

یونین کونسل سنگھوئی کے سابق چیئرمین راجہ احسن رضا نے سابق ایم پی اے چوہدری لال حسین کی درخواست پر کالج کے لیے55کنال اراضی وقف کی 2015میں راجہ غضنفر علی خان خواتین کالج سنگھوئی کا سنگ بنیاد رکھا گیا یہ منصوبہ چار سال تک فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث التواء کا شکار رہا جو اب مکمل ہو چکا ہے لیکن اسکے افتتاح کا کریڈیٹ شہنشاہ تعمیرات کی بجائے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے لیا۔

افسوس آج راجہ غضنفر علی خان کی بجائے وہاں صرف گورنمنٹ کالج برائے خواتین سنگھوئی کا بورڈ آویزاں ہے،افتتاح تو ہو گیا لیکن اس کار خیر میں حصہ لینے والے بہت سے چہرے افتتاحی تقریب سے غیر حاضر دکھائی دئیے اور شنید یہ ہی ہے کہ ستمبر میں کلاسز کا اجراء ہو جائے گا ۔

یہ تو تھے مسلم لیگ(ن) کے منصوبے جن پر تبدیلی سرکار تختیاں لگا رہی ہے اور ضلع بھر کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں،بلال ٹاؤن سمیت شہر کے متعدد علاقوں،سوہاوہ اور تحصیل پنڈ دادنخان میں پانی نایاب ہے ، دیکھتے ہیں تبدیلی سرکار کب منصوبے شروع کرواتی ہے اور ان پر تختیاں کونسا خوش نصیب لگاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.