جہلم

چند روز میں’’شیر‘‘ دھاڑیں مار کر روئے گا۔ حافظ حسین احمد

جہلم: چند روز میں’’ شیر‘‘دھاڑیں مار کر روئے گا ،کیونکہ انتخابی نشان ’’شیر‘‘مستقبل میں قالین کا شیر ثابت ہو سکتا ہے۔

ان خیالات کااظہار جمعیت علماء اسلام (ف)کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق سینٹر و رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد نے دورہ جہلم کے موقع پر کیا۔اس موقع پر شیخ الحدیث مولانا قاری ظفراقبال،شیخ الستاز مولانا قاری عبدالودود خان،مولانا قاری عطاء اللہ طارق کے علاوہ جمعیت کے کثیر لوگ موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے چند بیوروکریٹ کو بچانے کیلئے ان اداروں سے پنگا لینا جن کی بنیاد پنجاب ہے دانش مندی نہیں ہے جبکہ سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے مطلع صاف نہیں ہے ہو سکتا ہے کہ انتخابی فارم کا معاملہ تاخیر کا باعث بنے۔عام انتخابات کے حوالے سے صورتحال ایک اعصابی دھند کے چھٹنے کے بعد واضح ہو گئی ۔جبکہ لگتاہے کہ مستقبل میں شریفوں کا کوئی حال نہیں ہوگا اور نااہلی کے بعد بے حالی کا سیزن شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے پانامہ کیس کے حوالے سے عدالتوں سے ریلیف لینے والے اب پچھتا رہے ہیں ۔کیونکہ پارلیمنٹ نے ٹی او آر کی تشکیل کے وقت ہٹ دھرمی اور نواز شریف کا عدلیہ کو کمیشن بنانے کیلئے خط سیاسی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے جس کی سزا اب ان کو مل رہی ہے، انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کو مغلیہ انداز میں موروثی سیاست کیلئے استعمال کرنے کا حربہ بھی کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔کیونکہ بڑے میاں کے بعد چھوٹے میاں کی باری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ احتسابی موسم کی تبدیلی کے بعد پنجاب میں سیاسی پرندوں کی نقل مکانی شروع ہو سکتی ہے۔جس کا فائدہ’’ آنیوالوں‘‘کو ہوگا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نئی حلقہ بندیاں انتخابی عمل کے حلق میں اٹک سکتی ہیں جنہیں کافی عرصہ تک ’’نہ اگلا جا سکے گا نہ نگلا‘‘اور اسی دوران احتسابی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا اور یہ آئین کے فریم ورک کے مطابق ہوگا جس سے’’ سانپ بھی مر جائیںگے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی‘‘ کیونکہ احتسابی ہوائیں سندھ سے پنجاب کا رخ کر چکی ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انوار راؤ کو’’ بہادر بچہ ‘‘کا خطاب دینے والے کی باری آئیگی جبکہ احتساب کے حوالے سے تحریک انصاف کے ساتھ بھی انصاف ہوگا۔تبھی معاملہ ’’صاف‘‘ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button