دینہ

دینہ و گرد و نواح میں موجود یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء خوردو نوش ناپید، صارفین کو مشکلات کا سامنا

دینہ و گرد و نواح میں موجود یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء خوردو نوش ناپید ،صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،حکومت کی جانب سے سستی اشیاء خورد نوش کی خرید ایک خواب بن کر رہ گئی ،یوٹیلٹی سٹورز ویرانی کا منظر پیش کرنے لگے ،یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء خورو نوش کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام نے یوٹیلٹی سٹورز پر جانا بند کر دیا جس کی وجہ سے گورنمنٹ کو آمدن کی بجائے خسارے کا سامنا ،حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹور بھی خسارے میں چلنے والے اداروں کی لسٹ میں شامل ہو گیا ۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا نمائندگان نے شہر و گرد و نواح کے یوٹیلیٹی سٹورز کا سروے کیا جس دوران یہ بات دیکھنے کو ملی کہ یوٹیلٹی سٹورزپر اشیاء خورد و نوش کی سخت قلت ہے ،ضروریات زندگی کی اشیاء میسر نہیں ،یوٹیلٹی سٹورز ویرانے کا منظر پیش کر رہے تھے ،یوٹیلٹی سٹور میں اشیاء نہ ہونے کی وجہ سے گاہک مجبورا شہر کی دوکانوں سے مہنگے داموں اشیاء خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں ،یوٹیلٹی سٹورز پر تمام قسم کی دالیں موجود نہ پائی گئی اس کے علاوہ چاول و گھی کی عدم دستیابی بھی دیکھنے کو ملی ۔

سروے ٹیم نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ چینی جو کہ پہلے پہل یوٹیلٹی سٹورز پر کم قیمت پر موجود ہوا کرتی تھی اس کا نام و نشان نہیں تھا،یوٹیلٹی سٹور پر اگر ایک صارف 10سے 15ہزار کی خریداری کرنے آتے تھے اب وہ بمشکل صرف 2000یا 3000کی خریداری کر پاتے ہیں باقی اشیاء انہیں شہر کی دوکانوں سے مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہیں ،موجودہ حالات میں گورنمنٹ یوٹیلٹی سٹورز کی مد میں 27ارب روپے کی مقروض ہو چکی ہے ،یوٹیلٹی سٹورز پر 15000ورکر کام کر رہے ہیں جب کہ ملک میں یوٹیلٹی سٹورز کی کل تعداد 6000ہے جس میں 4000یوٹیلٹی سٹورز گورنمنٹ کی عدم توجہی کی وجہ سے خالی ہو رہے ہیں۔

صارفین یوٹیلٹی سٹورز سے اشیاء خورد و نوش کی عدم دستیابی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں ،یوٹیلٹی سٹورز کا خسارہ حکومت عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دکھیل رہا ہے اور دن بدن ان کا جینا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے ،یوٹیلٹی سٹورز تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ،یوٹیلٹی سٹورز کے خسارے کو مد نظر رکھتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے مال دینا بند کر دیا ہے۔

سروے کے دوران عملہ سے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اشیاء خورد و نوش کی کمی کی وجہ سے سیل میں بھی کمی آ گئی ہے اور جہاں ماہانہ سیل 3000000لاکھ تھی وہ کم ہو کر 300000پر آ گئی ہے جس کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹورز خسارے کا شکار ہو گئے ہیں ،یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء کی عدم دستیابی کی وجہ مہنگائی میں اضافہ ہو گیا ہے جس سے ایک عام آدمی کی زندگی میں حکومت نے خوشحالی کی بجائے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

عوام الناس نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء خورد و نوش کی کمی کو پورا کیا جائے اور یوٹیلٹی سٹور کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button