جلالپور شریف

جلالپور شریف میں محکمہ تعلیم کے افسران کی ملی بھگت سے نجی تعلیمی ادارے نے انت مچا دی

جلالپور شریف میں محکمہ تعلیم کے افسران کی ملی بھگت سے نجی تعلیمی ادارے نے انت مچا دی، ایک سال میں 70سے زائد فی میل اساتذہ کی تذلیل کر کے انہیں سکول سے نکال دیا گیا، ڈی سی جہلم اور سی او ایجوکیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جلالپور شریف میں محکمہ تعلیم کے افسران کی ملی بھگت سے نجی تعلیمی ادارے نے انت مچا دی ۔ایک سال میں 70سے زائد فی میل اساتذہ کی تذلیل کر کے انہیں سکول سے نکال دیا گیا ۔محکمہ تعلیم کے افسران کو پیسوں کی چمک نے اندھا کر رکھا ہے اور نجی تعلیمی ادارے نے ایک پلازہ کے اندر حمام نما کلاس روم بنا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر رکھا ہے۔

معززین علاقہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ نجی تعلیمی ادارہ جس کو بنے ہوئے تقریباََ ایک سال ہی ہوا ہے جس کی رجسٹریشن بھی نہ ہے جو گورنمنٹ آف پنجاب محکمہ تعلیم کے قوائد و ضوابط پر پورے نہ اْترنے کے باوجود بھی اپناگھناونا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم جیسے معتبر پیشے کو کاروبار سے منسوب کرنا غلط نہ ہو گاکیوں کہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے یہی کہنا مناسب ہے نہ تو اس تعلیمی ادارے کے پاس سکول کے مطابق بلڈنگ ہے،نہ فیکلٹی ،نہ پانی،نہ واش روم حتیٰ کہ کوئی سہولت میسر نہ ہونے کے باوجود بھی محکمہ تعلیم کے سرکاری افسران کی آشیر باد پر یہ نجی تعلیمی ادارہ اپنا کاروبار چمکائے ہوئے اور بچوں کے مستقبل اور صحت کے ساتھ سرعام کھیلتے ہوئے دیکھائی دیتاہے۔

انہوں نے کہا کہ فی میل ٹیچرز کو5000روپے ماہانہ تنخواہ کیساتھ گالیاں اوربے عزتی کر کے لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔آخر انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے افسران کیوں خوابِ غفلت کی نیند سو رہے ؟

اہلیان علاقہ نے انتظامیہ سے اس نجی سکول کے مالک کے خلاف محکمہ تعلیم کے افسران کے بغیر انتظامیہ سے انکوائری کروا کے حقائق کو منظر ِ عام پر لایاجانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث محکمہ تعلیم کے اساتذہ ، کلرک سٹاف اور افسرانِ بالا جو ان جیسے پرائیویٹ سکولوں کو رجسٹریشن بغیر کسی جانچ پڑتا ل کے دیتے ہیں اْن کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button