جہلم

92 سال پرانے جہلم ریلوے اسٹیشن کی عمارت کھنڈرات میں تبدیل

جہلم: 92 سال پرانے ریلوے سٹیشن کی عمارت پر مالیاتی ادارے تو نہ بن سکے البتہ اربوں روپے مالیت کی قیمتی جگہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے ،جس کے بعد اب ریلوے اسٹیشن کے اردگرد نشئیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔شہریوں کا ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔
تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی حکومت نے تین سال قبل جہلم ریلوے اسٹیشن کے اردگرد خالی جگہ پر کمرشل عمارتیں ، فوڈ سٹریٹ ، میرج ہالز بنانے کا اعلان کیا تھا جس سے ریلوے اسٹیشن کے اردگرد ریلوے کی مالکیتی اراضی جہاں چند برس قبل تک ریلوے افسران کے بنگلے ہوا کرتے تھے ، اب کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
بارشوں کے موسم میں یہ کھنڈر نما عمارتیں کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے۔محکمہ ریلوے کی جانب سے ریلوے کالونی میں سکیورٹی کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں نے اس جگہ سے گزرنا چھوڑ دیا ہے۔
ریلوے ا سٹیشن پر قائم مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے آنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر شام کے وقت گھپ اندھیرا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن پر قائم مسجد میں نماز کی ادائیگی کیلئے آنے والے نمازی خوف کیوجہ سے عبادت کرنا ترک کر دیا ہے اور جو لوگ ریلوے اسٹیشن پر واک کے لیے آتے تھے ان میں سے بھی بیشتر افراد نے یہاں آنا چھوڑ دیا ہے ،جس کی وجہ سے شام ڈھلتے ہی یہ جگہ ویرانی کا منظر پیش کرتی ہے اوراس خستہ حال عمارت کے قریب سے گزرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔
شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وفاقی وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کیا ہے کہ ریلوے انتظامیہ ریلوے اراضی لیز پر شہریوں کو الاٹ کرکے ماہانہ ریونیو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ریلوے اسٹیشن کی رونق کو بحال کریں تاکہ شہری دن اور رات کے اوقات میں آمدورفت جاری رکھ سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button