فیسیں کم کرنے کے واضح احکامات کے باوجود پرائیویٹ سکولز کی جانب سے بھاری فیسوں کی وصولی جاری

0

جہلم: ضلع بھر کے پرائیویٹ سکولز ہائیکورٹ کی جانب سے فیسیں کم کرنے کے واضح احکامات کے باوجود پرانی فیسوں کی وصولی کا کام دھڑلے سے جاری ، سکول مالکان نے ہائی کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے۔

دوسری طرف محکمہ سکولز ایجوکیشن کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی کی شکایات کے حوالے سے ایک بھی شکایت سیل قائم نہیں کیا گیا ، درجنوں طلباء و طالبات کے والدین نے صحافیوں سے رابطے شروع کردئیے ،ضلع بھر میں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو قانون پر عملدرآمد کروائے ۔ اس سلسلے میں طلباء و طالبات کے والدین کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور۔

تفصیلات کے مطابق جہلم ضلع بھر میں قائم پرائیویٹ سکولز مالکان ہائی کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے بھاری فیسوں کی وصولی جاری رکھے ہوئے ہیں ، جس کی وجہ سے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

محکمہ تعلیم کے افسران نے کوئی ایسا شکایت سیل قائم نہیں کیا جہاں متاثرہ افراد اپنی شکایات درج کرواسکیں اور ان سے وصول کی گئیں اضافی رقوم کی واپسی ممکن ہو سکے ۔ جس کیوجہ سے زیر تعلیم بچوں کے والدین مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔

متاثرہ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم ، محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران سے مطالبہ کیاہے کہ ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کروایا جائے اور وصول کی گئی اضافی فیسیں واپس کروائی جائیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار نے آنکھیں نہ کھولیں تو توہین عدالت کے مرتکب افسران و سکول مالکان کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری و اخراجات محکمہ تعلیم ضلع جہلم کے ذمہ ہونگے۔

موقف جاننے کے لئے چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ تعلیم کے دفتر رابطہ کیا گیا لیکن کسی نے فون اٹینڈ نہ کیا اگر محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران اپناموقف دینا چاہیں تو ان کا موقف من و عن شائع کیا جائیگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.