نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، صوبہ پوٹھوہار کا قیام اب ناگزیر ہوگیا ہے، ارشد سلہری

0

جہلم: علاقائیت کی سیاست سے وفاقیت کو تقویت ملتی ہے ۔آج کا عہد تقاضا کرتا ہے کہ علاقائی خطوں کی بات کی جائے ۔ریجنل ازم سے ریاست مضبوط اور وفاق طاقت ور ہوتا ہے۔پڑوسی ملک بھارت نے پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں شورش کا خاتمہ ریجنل ازم کی سیاست کے ذریعے کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار تحریک صوبہ پوٹھوہار کے چیف آرگنائزر ارشد سلہری نے جہلم اپڈیٹس سے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ کو بھارتی پنجاب میں خالصتان کی وہ آواز سنائی نہیں دیتی ہے جو کچھ عرصہ پہلے سنائی دے رہی تھی۔بھارت نے ریجنل ازم کو فروغ دیکر وفاق کو بچایا ہی نہیں بلکہ مضبوط کرلیا ہے۔بھارتی پنجاب میں اب خالصتان تحریک تمام تر کوششوں کے باوجود آگے نہیں بڑھ رہی ہے اور نہ کوئی آئندہ آثار نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریجن وفاق کی عمارت میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔وفاق پسند اس امر کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ وفاق کی عمارت کی بنیادیں کمزور ہوں تو وفاق کمزور ہوگا۔عمار ت اپنی بنیادوں پر ہی مضبوط ہوتی ہے۔دوسری اہم ترین بات کہ ریجنل سطح پر نئے صوبوں کی مانگ بڑھ رہی ہے ۔یہ نئی صورتحال ہے۔آئندہ سیاست نئے صوبوں کے قیام پر ہوگی۔نئے صوبوں کی تشکیل سے انکار ممکن نہیں ہو سکے گا۔

ارشد سلہری کا کہنا تھا کہ ریاست اور حکومت کو حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔خدا ناخواستہ اس امر سے پہلوتہی برتی گئی تو پھر حالات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں ۔پچھتاوئے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔اس وقت سندھ ،پنجاب ،خیبرپختونخوا سمیت بلوچستان میں نئے صوبوں کی تحریکیں ابھر رہی ہیں ۔پنجاب میں تحریک صوبہ پوٹھوہار اور سرائیکستان ،جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی مانگ دن بدن زور پکڑ رہی ہے۔جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ کیلئے شور ایوانوں میں سنائی دے رہا ہے ۔خیبر پختونخوا میں تحریک صوبہ ہزارہ تناور درخت بن چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ سے جنوبی سندھ صوبہ کی بازگشت ہے۔بلوچستان سے بھی پشتون صوبے کے آثار ابھرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وفاق پاکستان میں ریجنل بنیادوں پر کمر جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ریاست،ریاستی ادارے،حکومت اور وفاق پسند طبقات اگر چاہتے ہیں کہ وفاق مضبوط اور توانا رہے تو پھرپاکستان میں بسنے والی قومیتوں،لسانی اکائیوں سمیت صوبائی اور ریجنل اکائیوں کو ان کی مانگ کے مطابق بنیادی انسانی حقوق سمیت سیاسی ،سماجی اور آئینی حقوق دینا ہوں گے۔قومیتوں کو دبانے سے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے ہیں ۔

تحریک صوبہ پوٹھوہار کی بابت پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشد سلہری نے کہا کہ صوبہ پوٹھوہار کی تحریک اس امر کی عکاس ہے کہ خطہ پوٹھوہار تاریخی اعتبار سے اپنے اندر سے تمام تر پہلووں سے صوبے کے تقاضے پورے کرتا ہے۔اپنی جغرافیائی ہیت سے لیکر تہذیب و تمدن تک خطہ پوٹھوہار ایک صوبہ ہے۔

ارشد سلہری نے کہا کہ صوبے کی آواز اب صرف میری آواز نہیں رہی ہے بلکہ ہر پوٹھوہاری کا مطالبہ بن چکی ہے۔صوبہ پوٹھوہار کا قیام اب ناگزیر ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔والیان ریاست کا اس امر سے صرف نظر کرنا درست نہیں ہوگا۔ریاست کے پھیلاوں اور آبادی میں اضافے کے باعث حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ نیا بندوست کیا جائے اور جغرافیائی حد بندیوں پر بھی نظر ثانی کی جائے۔نظام کو یوں کا توں چلانے کی کوشش کرنا عقل مندی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ریاست نئے بندوبست سے پہلوتہی برتتی ہے۔خرابیو ں پر لیپا پوتی کرتی ہے تو اس سے افراتفری اور تشد د جنم لیتا ہے۔ ریاستی باشند ے ریاست پر اعتماد کر نا چھوڑ دیتے ہیں۔جس کے نتائج دہشت گردی کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں اور دشمن قوتوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے ریاست کے اندر سے تعاون میسر آتا ہے۔پھر وفاق کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ایسی تحریکیں ابھرتی ہیں ۔جنہیں ریاست غداری کا لیبل لگا کر بزور قوت دبانے کی کوشش کرتی ہے۔لیکن ناکام رہتی ہے۔موجودہ حالات کا اگر دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو ہم مندرجہ بالا صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔

ارشد سلہری نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے نرگسی نعرے اور خطاب کام نہیں آتے ہیں۔نرگسی بیانیہ بھی ایسی صورتحال میں فعل ہوجاتا ہے۔ایسی صورتحال سے نکلنے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے جو زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر کی جائے ۔جس میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے ۔ملکی وسائل اور مسائل کو دیکھتے ہوئے نئے یونٹس کی تشکیل کی جائے۔وفاق پاکستان کو ڈویژن کی سطح پر چھوٹے چھوٹے صوبائی یونٹوں میں تقسیم کردیا جائے تو پہلے مرحلے میں مسائل کا بوجھ انتہائی درجے میں کم ہوجائے گا۔

ارشد سلہری نے کہا کہ قومی اسمبلی کو محدود چند ممبران تک رکھنے کی بجائے توسیع دیکر آٹھ سو سے زیادہ ممبران کی اسمبلی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی طور پر عوامی اسمبلی بن پائے اور عوام کی اکثریت کو حق نمائندگی ملے اور قانون سازی کے عمل میں عوام کی اکثریت شامل ہو۔

انہوں نے کہا کہ چندلوگ کروڑوں عوام کے مقدر کا فیصلہ کرنے پر قادر ہیں۔انتظامی یونٹس کی تشکیل سے سیاسی اجارہ ی ختم ہونگی اور زیادہ سے زیادہ لوگ کاروبار مملکت چلانے میں ممدومعاون ہوں گے۔ریاست اور حکمرانوں کو مطالبات دبانے کی بجائے ۔مطالبات کو سننے کی ضرورت ہے تاکہ مسائل کا پائیدار حل نکل سکے اور صوبوں کی مانگ کرنے والی تحریکیں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس وقت استحکام کیلئے عوامی حمایت کی اشد ضرورت بھی ہے۔نئے صوبوں کے مطالبات آئینی ہیں ۔روز بروز مطالبات میں شدت آرہی ہے۔سرائیکی عوام میں یہ بات سرایت کرچکی ہے کہ وہ تحت لاہور کے قیدی ہیں۔اس صورتحال اور عوامی جذبات کو ریاست کو سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے۔

ارشد سلہری نے اس امر پر زور دیا کہ حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ریاست کو نئے صوبے بنانا ہوں گے ۔اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔مسائل کے گرداب سے نکلنے کا آسان اور سہل راستہ ہے ۔ریاست اور حکمرانوں کو یمن اور دیگر ممالک کے حالات کو دیکھ کر ہوش مندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.