جہلم

جہلم شہر کے گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک جام کی صورتحال میں بہتری نہ آسکی

جہلم: اندرون شہر کے گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک جام کی صورتحال میں بہتری نہ آسکی۔کچہری روڈ، مشین محلہ روڈ، اولڈ جی ٹی روڈ، سول لائن روڈ، ریلوے روڈ، سمیت ،قبرستان چوک، محمدی چوک، کچہری چوک، چوک گنبد والی مسجد، جادہ چوک سمیت بیشتر سڑکوں و چوک چوراہوں پر سکول و کالجز کے چھٹی کے اوقات کے دوران ٹریفک کا جام رہنا روز کا معمول بن چکا ہے ،جس سے طلباء و طالبات، خواتین ، بچوں سمیت شہریوں کو شدید مشکلات کاسامناہے۔

کچہری روڈ، جادہ روڈ، اولڈ جی ٹی روڈ، سول لائن روڈ پرسکول و کالجز قائم ہونے کے باعث ٹریفک کا جام ہونا روز کا معمول بن چکا ہے ، شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان سڑکوں پر ٹریکٹر ٹرالیاں رکشے ویگنوں سوزوکیوں گاڑیوں اور ٹرکوں کے باعث ٹریفک جام ہوجاتی ہے جس کو قانون نافذ کرنے والے ادارے نظر انداز کر رہے ہیں جس کیوجہ سے والدین اور طلباء کو اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

جہلم شہر کے بیشتر علاقوں سے دفتروں ،سکولوں و دیگر اداروں میں جانے والے ملازمین اورطلبہ کی بسیں،ویگنیں اور دیگرگاڑیاں ان سڑکوں پر رواں دواں ہوتیں ہیں جس سے صبح اور چھٹی کے اوقات میں بڑی گاڑیوں کا بے انتہا رش ہو جاتا ہے اس دوران کوئی ٹریکٹر ٹرالی آجائے تومعاملہ مزید گھمبیر ہو جاتا ہے۔یہاں بیشتراوقات لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک کلیئرکرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سڑکوں پرٹریکٹر ٹرالیوں ،رکشوں،چنگ چی ، سوزوکیوں کی بھر مارہے جن میں بیشتر کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تک نہیں اسکے باوجود غلط پارکنگ کر کے ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالتے ہیں مگرٹریفک قوانین شکنی پر کوئی بازپرس کرنے والا نہیں۔شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ بھاری گاڑیوں پر صوبائی وزارت داخلہ نے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کررکھی ہے اس کے برعکس بھاری گاڑیوں کا ان سڑکوں پر آنا ایک سوالیہ نشان ہے ۔جس کے باعث ٹریفک جام ہوجاتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مقررہ اوقات سے پہلے ہی اگر ان بڑی اور بھاری گاڑیوں جن میں ٹرک ، بسسز، ٹریکٹر ٹرالی ، مزدہ گاڑیوں کو شہر سے باہر ہی روک دیا جائے تو اس مسئلے کوبآسانی حل کیا جا سکتا ہے۔ نیز ان سڑکوں پر سے ناجائز تجاوازت کو ختم کروا کر سڑکوں کو کشادہ کرنے سے ٹریفک جام کے مسئلے پرقابو پایا جا سکتا ہے ، شہریوں نے ڈی پی او جہلم، ڈی ایس پی ٹریفک سے ان تجاویز پر غورکرنے اور اس پر عمل درآمد کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button