پنڈدادنخاناہم خبریں

آئیسکو حکام کی ملی بھگت، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی بجلی کا بوجھ پنڈدادنخان شہر کی سپلائی پر ڈال دیا گیا

پنڈدادنخان:  آئیسکو حکام کی ملی بھگت، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی بجلی کا بوجھ پنڈدادنخان شہر کی سپلائی پر ڈال دیا گیا،232کنال اراضی پر کھمبے لگانے کا NOCجاری ہوا لیکن مالکان نے واپڈا کی ملی بھگت سے زائد جگہ پر بجلی کے پول لگا لیے ، کروڑوں روپے فیڈر چارج فیس جوکہ سوسائٹی مالکان نے محکمہ واپڈا کو ادا کرنے تھے لیکن واپڈا اہلکاروں نے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر سوسائٹی کی بجلی کا بوجھ آبادی کو بجلی سپلائی کرنے والے فیڈر پر ڈال دیا۔

تفصیلات کے مطابق پنڈدادنخان شہر میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی (رحمان گارڈن ہاوسنگ سکیم) نے آئیسکو واپڈا کی ملی بھگت سے پنڈدادنخان کے شہریوں کا حق مارنا شروع کر دیا، 232کنال اراضی پر کھمبے لگانے کا NOCجاری ہوا لیکن مالکان نے واپڈا کی ملی بھگت سے زائد جگہ پر بجلی کے پول لگا لیے جبکہ بجلی کے لگائے گئے کھمبوں میں بیس فٹ کا فاصلہ ہونا چاہیے لیکن مالکان نے واپڈا کے ذمہ داران کی آشیر باد سے Cبلاک تک غیر قانونی کھمبے لگا لیے جس کی NOCنہ ہے۔

ذرائع کے مطابق کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی میں بجلی کی سپلائی کے لیے آبادی سے ہٹ کر فیڈر چارجریزادا کرنے ہوتے ہیں مالکان نے واپڈا حکام سے ملی بھگت کر کے سوسائٹی میں بجلی کی سپلائی کا لوڈ پنڈدادنخان شہر کی سپلائی پر ڈال دیا۔

ذرائع کے مطابق کروڑوں روپے فیڈر چارج فیس جوکہ سوسائٹی مالکان نے محکمہ واپڈا کو ادا کرنے تھے لیکن واپڈا اہلکاروں نے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر سوسائٹی کی بجلی کا بوجھ آبادی کو بجلی سپلائی کرنے والے فیڈر پر ڈال دیا جس کے باعث شہر بھر میں بجلی کے کم وولٹیج اور بجلی کی ٹرپنگ کا مسئلہ شیدت اختیار کرگیا آئے روز ٹرانسفارمر جلنا معمول بن چکا ہے جبکہ اس سلسلہ میں شہریوں نے ڈی سی جہلم کو بھی تحریری درخواست دی ہے لیکن انکی تاحال کوئی شنوائی نہ ہوسکی ہے جو کہ مقامی و ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟۔

پنڈدادنخان کے شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کے رحمان گارڈن ہاؤسنگ سکیم میں دی گئی غیر قانونی بجلی اور اضافی جگہ پر لگائے گئے بجلی کے کھمبوں کو ختم کروایا جائے۔

اس حوالہ سے جب موقف لینے کے لیے سوسائٹی کے مالک ڈاکٹر خالد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انکا نمبر بند ملا جبکہ سوسائٹی منیجر حبیب کا کہنا تھا کہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے آپ آئیسکو واپڈا والوں سے پوچھیں لیکن معمول کے مطابق آئیسکو واپڈا کے آفیشل نمبر کسی نے اٹینڈ نہ کیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button