تمام سرکاری ملازمین کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہونے چاہیں، عوامی حلقے

0

پڑی درویزہ: تمام سرکاری ملازمین کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہونے چاہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب از خود نوٹس لیں ۔ عوامی سماجی حلقوں کا پر زور مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق اپریل 2019ء سے تمام سطح کے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ کا آغاز کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ خصوصاً ہیڈ ماسٹر صاحبان شہر و دیہات میں سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کے داخلے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں ۔ گھر گھر جاکر والدین کو مائل کرنے کے ساتھ ساتھ ، اخباری اشتہارات ، بازاروں اور شاہراہوں پر بینر ز ، پینا فلیکس تک آویزاں کیے جا رہے ہیں ۔

اس سلسلے میں عوامی سماجی حلقوں کی طرف سے استفسار کیا جارہا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے اپنے بچوں کی اکثریت پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہے جس کی وجہ سے دیگر عوام سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں دکھائی دیتے ۔ اساتذہ کا دوہرا معیار عوام کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

عوامی سماجی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بیان کردہ صورت حال کا از خود نوٹس لیں اور خصوصی ہدایت کے ذریعے تمام سرکاری ملازمین بشمول شعبہ تعلیم کے ملازمین کو پابند کریں کہ ان کے اپنے بچے اور بچیاں لازمی طور پر سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں ۔ خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف انضباطی کاروائی بھی رکھی جائے ۔

زندگی کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے والدین کا کہنا تھا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے فروغ کے لیے اساتذہ کو بجائے پابند کرنے کے با اختیار بنایا جائے جیسا کہ ماضی میں دوامی اور لزومی طریقہ تدریس میں پایا جاتا تھا۔

عوامی سماجی حلقوں کے مطابق ایک طرف جس طرح سرکاری ملازمین آئے روز سہولیات اور اجرت میں اضافے کے لیے پریشان رہتے ہیں اسی طرح سرکاری تعلیمی اور صحت کے اداروں کے فروغ میں بھی ملازمین کابرابر کا کردار فرض اولین ہونا چاہیے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.