منگلااہم خبریں

محکمہ معدنیات کے عملے کی مبینہ ملی بھگت، ٹھیکے کے نام پر روزانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جانے لگا

منگلا: محکمہ معدنیات کے عملے کی مبینہ ملی بھگت ٹھیکے کے نام پر روزانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جانے لگا، محکمہ معدنیات نے منگلا ڈیم کے نزدیک کوئی لیز ٹھیکے پر نہیں دی،1 سال سے کوئی ٹھیکہ نیلام نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق دریائے جہلم کنارے منگلا ڈیم پنڈی موڑ کے قریب کریش، بجری، ریت سے لوڈ، ڈمپروں، ٹرالیوں کے ڈرائیورز سے ٹھیکے کے نام پر فی سیکڑا مبینہ طور پر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔

دریائے جہلم سے پتھر ،ریت وغیرہ نکالنے کے ٹھیکے کو سرکاری سطح پر منسوخ ہوئے 1 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج بھی درجنوں ڈمپرز، ٹریکٹرز ٹرالیاں روزا نہ کی بنیاد پر منگلا ڈیم پنڈی موڑ سے کریشن، ریت، بجری لوڈ کر کے شہر اور مضافاتی علاقوں میں سونے کے بھاؤ فروخت کرتے نظرآتے ہیں۔

یہاں قابل زکر بات یہ ہے کہ خود ساختہ ٹھیکیدار کے غنڈوں نے باضابطہ چونگیاں قائم کر رکھی ہیں اس طرح کریش، ریت ، بجری لوڈ کرکے نکلنے والے ڈمپرز ، ٹریکٹر ٹرالیوں کے ڈرائیورز سے فی سیکڑا (ایک سو فٹ)کے حساب سے سرعام بھتہ وصولی جاری ہے۔ محکمہ معدنیات اور ضلعی انتظامیہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھتہ مافیا کی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہے جس کا ثبوت1 سال قبل منسوخ ہونے والے محکمہ معدنیات کی طرف سے ٹھیکے ہیں۔

اس کے برعکس ٹھیکیدار آج بھی تواتر کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیںجس کیوجہ سے منگلا ڈیم کی بنیادوں کے نیچے سے پتھر نکلنے کے باعث منگلا ڈیم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہو چکا ہے جس کی تحریری طور پر محکمہ ماحولیات افسران کو آگاہ کر چکا ہے جبکہ محکمہ معدنیات اور ضلعی افسران بھتہ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہوئے پتھر نکاسی کا کام جاری رکھوائے ہوئے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے وزیر اعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ منگلا ڈیم کی بنیادوں سے پتھر نکالنے والے کریش مالکان اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سرکاری محکموں کے افسران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ ضلع جہلم کے مکینوں کے سروں پر منڈلانے والے خوف کے سائے کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button