دینہاہم خبریں

اپوزیشن جماعتیں پہلے وزیراعظم اور اب ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔ فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالو جی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے تیس مار خان بن کر دیکھ لیا،ایک مکھی بھی نہیں مار سکی،انتخابی اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی دعوت کے باوجود اپوزیشن روٹھے ہوئے بچوں کی طرح بیٹھی ہے،حکومت انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن زرداری اور نواز شریف کے مقدمات پر مذاکرات نہیں ہوسکتے، اپوزیشن حکومت کے ساتھ ملکر انتخابی اصلاحات کرے تاکہ آئندہ الیکشن الیکٹرانک ووٹ مشین کے ذریعے ہوں۔

ان خیالات کے اظہار انہوں نے اتوار کے روز منیر احمد خان کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا آغاز 14اپریل کو ہوگا،13اپریل کی رات چاند نظر آجائے گا، حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی، وزیر اعظم عمران خان کا واضح پیغام ہے کہ جو سرکاری افسر کام نہیں کرے گا وہ گھر جائیگا، تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، پیپلز پارٹی سندھ اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے چند اضلاع تک محدود ہو چکی ہے، چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کیلئے سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے وزیراعظم عمران خان اور اب ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں، پی ڈی ایم میں شامل پارٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہیں، آدھی جماعتیں (ن) لیگ اور آدھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں،پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہوچکی ہے جبکہ مریم نواز کی غیر ذمہ دارانہ سیاست نے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کے 8اضلاع تک محدود کردیا ہے۔

فواد چوہدری نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ انتشار کی سیاست چھوڑ کر انتخابی اصلاحات اور دیگر ایشوز پر حکومت کے ساتھ ملکر کام کرے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں الیکشن کمیشن کا نظام درست نہیں، سینیٹ کے انتخابات اور ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے انتخابی عمل پر اعتراض کیا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی دعوت کے باوجود اپوزیشن روٹھے ہوئے بچوں کی طرح بیٹھی ہے،حکومت انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن زرداری اور نواز شریف کے مقدمات پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ کسی سیاسی جماعت کے پاس اتنے امیدوار نہیں کہ وہ آئندہ الیکشن میں کھڑے کرسکیں، تحریک انصاف ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد امیدوار کھڑے کرسکتی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس ملک بھر میں کھڑے کرنے کیلئے پورے امیدوار بھی نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں کمزور نہ ہوں بلکہ وہ اتنی مضبوط ہوں کہ سیاسی عمل بہتر طریقے سے جاری رکھا جاسکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ قومی انتخابات الیکٹرانک ووٹ مشین کے ذریعے ہوں تاکہ دھاندلی کا امکان ہی ختم ہوجائے،الیکٹرانک ووٹ مشین کے ذریعے انتخابات ہونے سے پولنگ ختم ہوتے ہی چند منٹوں میں نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ بیورو کریسی اپنا قبلہ درست کرلے جو افسر کام نہیں کرے گا وہ گھر جائیگا، اگلے اڑھائی سال میں بیوروکریسی کو کام کرنا ہوگا منتخب عوامی نمائندے وژن دیں گے جبکہ عمل درآمد بیوروکریسی کرے گی،منتخب نمائندوں کی عزت و تکریم بیوروکریسی پر لازم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور اور کراچی میں صفائی کے مسائل حل کرنا وہاں کی مقامی حکومتوں کا کام ہے۔

رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ یکم رمضان المبارک 14اپریل جبکہ 13 اپریل کی رات کو چاند نظر آجائیگا لیکن اس بات کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کی بنیاد ہمیں سائنس و ٹیکنالوجی کے علم پر رکھنا ہوگی، 1970 اور 1980 کے دہائی میں ان علوم پر عمل نہ کرنے سے بہت نقصان ہوچکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے انقلابی اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے حوصلہ افزا نتائج بتدریج سامنے آرہے ہیں۔

میاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہاکہ نواز شریف بیماری کا ڈرامہ رچاکر باہر گئے اس سلسلے میں کمیٹی بھی بنائی گئی تھی،ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح باقی مریضوں کاعلاج پاکستان میں ہوتا ہے سیاست دانوں کا بھی یہاں ہی علاج ہو۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جوکمیٹی بنائی گئی تھی وہی کمیٹی کہیں مریم نواز کے ٹیسٹ بھی نہ لے لے۔

ایک اور سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمٰن کا موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں کوئی سٹیک نہیں ہے، اپوزیشن میں صرف پیپلز پارٹی ہی واحد جماعت ہے جس کا اس موجودہ سسٹم میں سٹیک ہے،پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اس کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زرداری کی جگہ نواز شریف بھی ہوتے تو ان کا فیصلہ بھی یہی ہوتا اس لیے پیپلز پارٹی نے موجودہ صورتحال میں اپنی بقا کیلئے درست فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چوبیس گھنٹے وزیر اعظم عمران خان کے پیچھے لگی ہوئی ہے جس کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہورہا، بہتر ہے کہ وہ اپنی سیاست پر توجہ دیں،ہم چاہتے ہیں پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کیلئے ایسی جماعتیں ہوں جن کی چاروں صوبوں میں نمائندگی ہو لیکن اپوزیشن جماعتیں خود کو مضبوط کرنے کی بجائے کبھی حکومت اور کبھی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد کرتی نظر آتی ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ٹھیک چل رہی ہے، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار عوامی مسائل حل کررہے ہیں،صفائی و دیگر عوامی مسائل کو حل کرنا مقامی حکومت کا کام ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button