جہلم

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے جانشینی قانون جاری کر دیا

جہلم: گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے جانشینی قانون جاری کر دیا،جس کا نام پنجاب سیشن سرٹیفکیٹ آرڈیننس 2021 ہوگا،یہ صرف13 دفعات پر مشتمل ہے۔اب لوگوں کو وفات پانے والے افراد کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے حصول کے لئے عدالت نہیں بلکہ نادرا دفتر سے رجوع کرنا پڑے گا۔

نادرا جہاں لوگوں کے شناختی کارڈ جاری کرتا ہے اب اس کو لوگوں کے مال یعنی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد سے متعلق جانشینی سرٹیفکیٹ بمطابق فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) جاری کرنا ہو گا۔عوام الناس کی درخواست ہائے جانشینی وصول کرنے کے لئے جانشینی سہولت یونٹ بنائے جائیں گے جوکہ نادرا کے دفاتر میں اپنا کاوئنٹر لگائیں گے۔جیسے ہی کوئی شہری اپنی زمین ،جائیدادیا نقد رقم کسی بینک میں چھوڑ کر فوت ہوگا اس کے وارثان کو عدالت میں جانے کی بجائے نادرا کے دفتر میں درخواست دینی ہوگی۔

اتھارٹی بعداز وصولی درخواست جانشینی دواخبارات ایک انگریزی اور ایک اردو میں اشتہار جاری کرے گی۔اگر 14 یوم کے اندر کسی شخص نے اعتراض پیش نہ کیا تو بعدازبائیومیٹرک تصدیق اتھارٹی جانشینی سرٹیفکیٹ جاری کردیگی۔بائیومیٹرک تصدیق پاکستان یا دنیا کے کسی بھی شہر سے کی جاسکے گی۔

نادرا اتھارٹی کی جانب سے جاری شدہ جانشینی سرٹیفکیٹ ایسے ہی ہوگا جیسے کسی عدالت نے جاری کیاہو۔اگر کوئی معاملہ دشوار اور پیچیدہ ہوگا (یعنی اگر نادرا وارثان کا تعین نہ کر سکے) تو اتھارٹی کے حکم پر وارثان عدالت سے رجوع کرسکیں گے۔ اگر اندر میعاد اتھارٹی نادرا سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے تو بھی عدالت سے رجوع کیا جاسکے گا۔

درخواست جانشینی کے ہمراہ وفات سرٹیفکیٹ متوفی ،وارثان کی تفصیل، وارثان کے شناختی کارڈز کی نقولات، تفصیل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ لف کرنی ہوگی۔اگر وارثان کسی ایک وارث کو درخواست دائر کرنے کا اختیار دیں تو اس کی دستاویز بھی لف کرنا ہوگی۔تمام درخواست ہائے جانشینی کا آن لائن ریکارڈ رکھا جائے گا۔جہاں متوفی فوت ہوا ہویا جہاں اس کی جائیدادیا سرمایہ ہوگا وہاں اسی شہر میں درخواست جانشینی دائر ہوسکے گی۔اگر کسی نے جانشینی سرٹیفکیٹ جاری شدہ پر اعتراض کرنا ہوگا تو قانون کے مطابق اعتراض کرسکے گا۔

آرڈیننس کی دفعہ دس کے تحت جانشینی سرٹیفکیٹ کے مقدمات کے سماعت کرنے کا اختیار کسی عدالت کو نہ ہوگا۔اگر نادرا اتھارٹی سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے تو پھرعدالت سے رجوع کیا جاسکے گا۔ آرڈیننس کا اطلاق پورے پنجاب پر ہوگا۔ فیس اشتہارات وغیرہ نادرا اتھارٹی ہی وصول کرے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button