دینہاہم خبریں

معاشرے میں موجودہ بے راہ روی اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے۔ عبدالرشید ربانی

دینہ: معاشرے میں موجودہ بے راہ روی اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے، معاشرے میں ہر سو قتل و غارت ، افراتفری ، لوٹ کھسوٹ ایک دوسرے کو روند کر آگے بڑھنے کی روایات فروغ پا رہی ہیں، انسان جسے اسلام نے سب سے زیادہ عظمت عطا کی ہے آج وہ اپنے حقوق کے لیے در بدرکی ٹھوکریں کھا رہا ہے ، آج ہمارا معاشرہ تباہی اور بربادری کا شکار ہے ، تھوڑے سے مالی فائدے کے لیے دوسرے کو قتل کردینا خطرناک و باء کے طور پر پھیل چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار جامعہ امینیہ اسلامیہ آمد پر جمعیت علماء برطانیہ کے صدر علامہ مولانا عبدالرشید ربانی قاضی شوکت ، شیخ محمد جابر، مولانا جابراسلام راغب اور دیگر شرکائے محفل اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کیا۔مولانا عبدالرشید ربانی نے کہا کہ رحمت دو عالم انسانیت کے لیے روشن مینار ، آپﷺ کی سیرت مطہرہ انسان کی کامیابی اور فلاح کی کنجی ہے ، جناب نبی کریم ﷺ کی سیرت مطہرہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو دنیاوی ، آخرت کامیابی نے امت مسلمہ کو اعتدال پسند امت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بطور امتی ہمارا فرض ہے کہ ہم انسانیت کو امن و سکون فلاح کی طرف بلائیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک نوجوان حقوق اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے اور معاشرے میں خیر و بھلائی پھیلانے میں اس کا کوئی کردار نہ ہو ، بلکہ اس کے برعکس وہ معاشرے کی تباہی اور بربادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہو، سودی کاروبار دن بدن بڑھ رہا ہے ، جس نے ہماری زندگی عذابوں میں مبتلا ہو رہی ہے ، ہم میں سے ہر شخص پریشان اور نالاں ہے،خواتین بچوں سمیت تمام کمزور طبقات کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے ، ہمیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔

مولانا عبدالرشید ربانی نے کہا کہ پاکستان بہت سے مسائل کا شکار ہے ، ختم نبوت ہمارا ایمان ہے ، ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ تمام اقلیتوں کو تحفظ ملے ، دشمنان اسلام نے تحقیق کی پوری گہرائی سے مطالبہ کیا مسلمان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتے ، دین کے لیے قربانی دینے کے لیے آسانی سے تیار ہو جاتے ہیں، دشمنان اسلام بری سوچ بچار کے بعد اس نکتے پر پہنچے کہ مسلمانوں سے جہاد اس وقت تک ختم نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ختم نبوت کا مسئلہ نہ ختم کیا جائے، قادیانی پاکستانی کو اپنے مکروہ عزائم میں رکاوٹ سمجھتے اور اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ، حکومت سنجیدگی سے ایسے عناصر کا پتہ لگائے عقیدہ توحید کی حفاظت کے لیے ہم اپنی جان بھی دے سکتے ہیں، میڈیا دیانتداری سے حقائق کی ترجمانی کرے ، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور اسے اختیار کر کے صراطِ مستقیم حاصل کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button