خوشامدی صحافت اور صحافتی معیار

تحریر: احسن وحید

1

عجیب ستم ظریفی ہے کہ ہم اب صرف ذاتی پسند اور ناپسند کو ان شعبوں میں بھی لا چکے ہیں جو نہ صرف معاشرے کی اصلاح کی بنیاد ہیں بلکہ ستونوں میں سے ایک ستون بھی ہیں، افسوس کے جب ادارے صرف نام نہاد کہلانے لگیں اور افسران کمروں میں بیٹھ کر وقت گزاری کریں تو پھر نام نہادی عام ہونے لگتی ہے، صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جو کہ نہ صرف خدمت کا دوسرا نام بھی ہے بلکہ قوموں کی معماری کے ساتھ ساتھ ملکوں کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہ چند کاروباری اور پیشہ ور لوگوں کی وجہ سے اہم ستون کو بھی کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یوں تو ملکی سطح پر بھی اس پیشہ کو کاروبار بنا لیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں میں بھی کاروبار کے ساتھ ساتھ جاہل لوگوں کی وجہ سے معاشرے میں بگھاڑ کی ایک بڑی وجہ بھی بن رہا ہے چند روپے کے عوض کسی بھی ایسے ادارے کا کارڈ لے لیا جاتا ہے جہاں خبر لگانے والوں کو خبر کے معیار یا الفاظ کے چناؤ اور صحافتی رموز سے کوئی غرض نہیں ہوتی بس رپورٹر کے بارے میں یہ علم ہونا چاہے کہ اس کی بلیک میلنگ والی خبر سے ادارے کو کچھ نہ کچھ حصہ مل جائیگا۔

اوپر سے ایسے چینلز کی بھر مار ہو چکی ہے جو کتا مرنے سے لے کر گائے کے بچہ دینے تک کی خبر کو بریکنگ نیوز بنا کر چلا دیتے ہیں بس ان کا ہر تحصیل ہر یونین۔کونسل میں نمائندہ ضرور ہونا چاہے بھلے اس آدھے گھنٹے کی خبر پر کوئی سپاہی بھی ٹس سے مس نہ ہو پھر رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے نکال دی جو جس کا دل کرے اٹھا کر صحافی بن کر چلا دے۔

ہماری بد بختی کے پہلے سابقہ دور حکومت میں اگر اداروں میں سفارشی اور نا اہل لوگوں کی بھر مار تھی تو اب تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے بھی بنیادیں ٹھیک کرنے کی بجائے وہ جنگ چھیڑ دی ہے جس کا دس سال بعد بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلنا کیونکہ جب تک چینلز اور اخبارات کے مالکان اور وہاں کام کرنے والوں کے معیاری کام کرنے کی صلاحیت کو نہیں دیکھا جاتا تب تک ہمارے معاشرے میں فساد۔بگھاڑ۔زوال وغیرہ کو ختم کرنے والا کرنے والا ستوں ان کا موجب بنتا رہے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر مناسب تنقید کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے اس مقدس پیشے کی بے حرمتی کا اختیار بھی چھینا جائے اور آئندہ کے لیے ایسے لوگوں کے خلاف ایسی کاروائی عمل میں لائی جائے کہ وہ دوسروں کو اس خیال سے بھی دور رکھے کیونکہ بعض اوقات عوام کی فلاح اور بہبود اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے ان جاہل اور نام نہاد صحافت کا لبادہ اوڑھنے والوں کی غیر مناسب الفاظ کی زد میں ا جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف نہ صرف مایوسی اور انتشار کی فضا قائم ہوتی ہے بلکہ شریف اور سادہ لوح افراد ان کی بلیک میلنگ کا بھی شکار ہو جاتے ہیں ۔

ہم حکومت اور سرکاری افسران کو تو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں لیکن ہم اپنی زمہ داری اور فرض سے نہ صرف پردہ پوشی کر لیتے ہیں بلکہ اپنی غلطیوں کو جانتے ہوئے بھی ٹھیک کرنے کا اخلاقی حوصلہ نہیں رکھتے ، صحافت پیغمبرانہ پیشہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خداداد صلاحیت بھی جو اب دیکھا دیکھی ہر دوسرا شخص اس مقدس پیشے کو کمائی اور بلیک میلنگ کے لیے استمعال کر رہا ہے اور اپنی پسند اور نا پسند کی بنیاد اور ذاتی مفادات سے حقیقت کو سچائی کو غلط رنگ میں پیش کر رہا ہے ۔

راقم کی اس تحریر کا مقصد ہر اس سرکاری افسر سے اپیل ہے کہ وہ اس کے قوم کے آنے والے بچوں کو مستقبل کے اس خوفناک مافیا سے بچانے کے لیے اپنی پسند اور نا پسند کو بلائے طاق رکھ کر ایسے عناصر کی نہ صرف اپنے اپنے حصے کے طور پر حوصلہ شکنی کریں بلکہ معاشرے میں صرف صحافت سے کمائی اور جھوٹی شہرت اور نام کی خاطر ہمارے ملک ہمارے شہر ہمارے علاقوں میں فساد بگھاڑ اور ترقی کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں ان کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تاکہ ہمارے آنے والے بچے اس قوم کے معمار ان عناصر کی طرف سے پھیلائے گے کسی انتشار کسی کنفیوژ اور کسی غلط فہمی کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں کیونکہ جس طرح یہ مافیا آہستہ آہستہ اپنے مفادات کی خاطر اداروں میں موجود کرپٹ نااہل لوگوں سے ملی بھگت کر کے حقیقت اور حقائق سے عوام کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے کہ مستقل میں ایسے عناصر پر بروقت گرفت بڑی غلطی ثابت ہو سکتا ہے .

اللہ پاک ہمارے ملک کی حفاظت کرے اور اسے ملک دشمن عناصر اور ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے جو اس کی مٹی سے اپنے چند مفادات جھوٹی شہرت اور نام کی خاطر غداری کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔

  1. RAJA GHAZANFAR ALI KHAN ALI ADOWALIYA کہتے ہیں

    NO ANY NEWSPAPERS OF PAKISTAN IS MOST SINCERE FOR THE PEOPLES OF

    . THIS ISLAMIC COUNTRY OF PAKISTAN

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.