جہلم

جہلم شہر میں گرم کمبل مہنگے ہونے کے باعث شہری قیمتیں سن کر "ٹھنڈے” پڑنے لگے

جہلم شہر میں گرم کمبل مہنگے ہونے کے باعث شہری قیمتیں سن کر”ٹھنڈے "پڑنے لگے ، لنڈابازار میں فروخت کے لئے رکھے گئے کمبلوں کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کرنے لگے، خواتین لنڈا بازار میں کمبل لینے کی غرض سے چھانٹی کرنے پر مجبور۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر و گردونواح میں سردی کی آمد پر ملکی و غیر ملکی کمبل بازاروں اور لنڈا بازار میں سجادئیے گئے ،خریداروں کا رش ، مارکیٹ میں سستے ملکی کمبل سے مہنگے غیر ملکی کمبل کی مانگ میں اضافہ ہو چکاہے ،غیر ملکی کمبلوں کی فروخت میں کورین ورائٹی سب سے آگے ہے۔ایرانی ،متحدہ عرب امارات اور سعودیہ کے استعمال شدہ کمبل بھی لنڈا بازار میں دستیاب ہیں۔

اس حوالے سے شہریوں نے صحافیوں کو بتایا کہ لنڈا بازار میں موجود کمبل اور مارکیٹ میں موجود کمبلوں کے نرخوں میں کوئی خاص فرق نہیں ملکی کمبلوں پر غیرملکی ورائٹی کو ترجیح دینے کی بڑی وجہ کوالٹی میں فرق ہے۔کمبل کی قیمت کوالٹی کے اعتبار سے 2ہزار روپے زائد بھی وصول کی جا رہی ہے۔

کورین کمبل کی زیادہ مانگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند برسوں سے اس ورائٹی کی فروخت بڑھی ہے۔ اعلیٰ کوالٹی کے کمبل دکانوں میں سجائے گئے ہیں جبکہ عام کوالٹی کے کمبل لنڈا بازار کی زینت بنے ہوئے ہیں اور اس کے خریداروں میں سفید پوش طبقہ زیادہ نظر آ رہا ہے۔

عام کوالٹی کے کمبل فروخت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ فروخت کرنے سے پہلے چھانٹی کے دوران بہترین کوالٹی کے کمبل بھی نکل آتے ہیں جو ہم مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ۔بلکہ اعلیٰ کوالٹی کے کمبل اپنے خاص گاہکوں کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں۔

ایک سوال پر کمبل فروشوں کا کہنا تھا کہ کمبل کا استعمال تو سردیوں میں ہوتا ہے لیکن اس کی خریدوفرخت سال بھر رہتی ہے کیونکہ کمبل جہیز کا لازمی آئٹم بن چکا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button