جہلماہم خبریں

بلدیاتی اداروں کی بحالی؛ بلدیاتی نمائندوں اور حکومت کے درمیان نئی عدالتی جنگ شروع ہونے کا امکان

جہلم: بلدیاتی اداروں کی بحالی کے بعد بلدیاتی نمائندوں اور حکومت کے درمیان ایک نئی عدالتی جنگ شروع ہونے کا امکان پیدا ہوگیا، فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کے لئے فریقین نے مشاورت شروع کر دی۔

بیشتر بلدیاتی اداروں کی سربراہی ن لیگ کے پاس ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لئے حکومت کی جانب سے فنڈز کا اجراء بڑا مسئلہ بن سکتا ہے ۔ اس سے پہلے ترقیاتی فنڈز ارکان اسمبلی کے توسط سے خرچ کئے جارہے تھے۔

میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نمائندے 23 ماہ تک معطل رہے، اس مدت کو شامل کرکے انہیں نومبر 2023 تک توسیع دی جائے ، ترقیاتی فنڈز سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2019ء میں بلدیاتی نظام کو تبدیل کرکے بلدیہ جہلم کی حیثیت میونسپل کارپوریشن میں تبدیل کی گئی اس طرح بلدیہ جہلم میں اندرون شہر کی کل 36 وارڈز تھیں جبکہ میونسپل کارپوریشن کی توسیع کے بعد ، عید گاہ ، سعیلہ ، چونترہ ، کھرالہ سمیت مزید ملحقہ آبادیوں کو شامل کیا گیا۔

بلدیاتی ادارے بحال ہونے کے بعد کیا پھر سے بلدیہ جہلم اور شامل کئے گئے علاقوں کو دوبارہ یونین کونسلز میں شامل کر دیا جائے گا جو کہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button