جہلم

حکومت پنجاب خسرہ پر مکمل قابو پانے کیلئے پر عزم ہے۔ ڈاکٹر وسیم اقبال

جہلم: خسرہ ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو کہ ایک بچے سے دوسرے بچے تک چھینک کے ذریعے ہوا میں پھیلتا ہے اور دوسرے بچے میں منتقل ہوجاتا ہے ۔ محکمہ صحت ، حکومت ِ پنجاب خسرہ کے پھیلاوکو روکنے کے لیے حفاظتی ٹیکے لگوانے کی مہم کی تحت کسی بھی سرکاری اسپتال سے خسرہ سے بچاوکے حفاظتی ٹیکے مفت لگوائے جاسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر وسیم اقبال نے از دفتر ہیلتھ اتھارٹی جہلم میں خسرہ سے بچاوکی آگاہی کے بارے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ممبر پنجاب اسمبلی چوہدری ظفر اقبال بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ خسرہ کا پھیلاو چونکہ ہوا کے ذریعہ ہوتا ہے اور یہ زیادہ ہجوم والی جگہوں مثلاً تعلیمی اداروں، بازاروں وغیرہ میں یہ زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی اگر ویکسی نیشن نہ کرائی جائے تو یہ شدت اختیار کرسکتی ہے جسکی کی وجہ سے اس کا شکاربچوں میں وزن کی کمی، کھانسی، تیزسانس، ناک کا بہنا، جسم پر سرخ دانوں کی موجودگی کی شکایت نمونیہ، دست لگ جانا، آنکھوں کا متاثر ہونا، بینائی کا چلاجانا، کانوں سے پیپ کا اخراج، جسم کوجھٹکے لگنا اور دماغ کا نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔ اور اس قسم کی پیجیدگیوں سے خسرہ کا شکار بچوں کی اموات بھی واقع ہوسکتی ہیں۔

سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر وسیم اقبال نے مزید بتایا کہ محکمہ صحت، حکومتِ پنجاب ، یونیسف اور ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے چھ ماہ سے سات سال تک کی عمر کے ہر بچے کو 15تا27اکتوبر2018خسرہ سے بچاوکے حفاظتی ٹیکے مفت لگائے جائیں گے ۔ یہ ٹیکے محکمہ صحت کے تمام اسپتالوں میں لگائے جائیں گے ۔ اور اس میں ٹارگٹ بچے 1لاکھ95ہزار سے زائد ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button