پیار نہیں مار؛ جہلم میں سرکاری سکول کی معلمہ نے تھانیدار کا روپ دھار لیا، معلمہ کا طالبہ پر وحشیانہ تشدد

0

جہلم: گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 کی معلمات نے تھانیداروں کا روپ دھار لیا ، دسویں جماعت کی طالبہ پر معلمہ کا وحشیانہ تشدد، متاثرہ طالبہ کی حالت غیر ، طالبہ کے والد نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول نمبر1 میں زیر تعلیم دسویں جماعت کی طالبہ اقصیٰ وحید دختر چوہدری عبدالوحید نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول نمبر1 دسویں جماعت کی معلمات نے طالبات پر وحشیانہ تشدد کرنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔

حکومت نے مار نہیں پیار کے سلوگن پر عملدرآمد کرنے کا پابند بنایا ہوا ہے لیکن گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ، تمام کلاسز کی معلمات طالبات پر چھڑیوں سے تشدد کرتی ہیں اور طالبات کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر کسی طالبہ نے اپنے والدین کو تشد د بارے بتایا تو اسے سکول سے نکال دیا جائیگا ۔

متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ میں نے پیاس لگنے پر ساتھی طالبہ سے پانی طلب کیا جس پر معلمہ (ز) نے مجھے پکڑ کر اس قدر وحشیانہ تشدد کیا جس طرح میں نے کوئی بہت بڑا جرم کر لیا ہے اور معلمہ نے دھمکی دی کہ اگر گھروالوں کو بتایا تو سکول سے نکال دونگی۔

متاثرہ طالبہ کے والد چوہدری عبدالوحیدنے بتایا کہ معلمہ کے تشدد کیوجہ سے میری بچی شدید خوف و حراس میں مبتلا رہی ہے درد کی شدت برداشت نہ کرنے پر میری بیٹی نے دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے مجھے تمام واقعات سے آگاہ کیا جس کی تحریری درخواست ڈپٹی کمشنر ، سی ای او ایجوکیشن، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو دے دی ہے اگر مجھے انصاف مہیا نہ کیا گیاتو پورٹل پر شکایت کرکے سکولوں میں نافذ جنگل کے قانون بارے آگاہ کرونگا جس کی تمام تر ذمہ داری سکول انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.