کالم و مضامین

ٹلہ جوگیاں: جہلم کا وہ ٹیلا جہاں صدیوں سے کوئی اقتدار مانگنے تو کوئی محبوب مانگنے آتا ہے

شبینہ فراز

تخت ہزارے کا رانجھا شکستہ قدموں اور رنجور دل سے پہاڑ کی کٹھن چڑھائی چڑھ رہا ہے۔ اس کی ونجلی (بانسری) کی تانیں فضا میں درد گھول رہی ہیں۔ یہ ہیر سے بچھڑنے کا غم ہے جس میں وہ دنیا تیاگ کر جوگ لینے گرو بال ناتھ کے پاس پہنچتا ہے۔ گرو بال ناتھ اس غم زدہ عاشق کو اپنی محبت کے سائے میں سمیٹ لیتے ہیں اور اس کا کان چھدوا کر، اس میں بالی ڈال کر اسے اپنے قبیلے میں شامل کر لیتے ہیں اور یوں رانجھا ’کن پھٹا‘ جوگی بن جاتا ہے۔

ہیر رانجھا کا یہ قصہ آج بھی پنجاب کے لوگوں کو بے قرار رکھتا ہے۔ اگرچہ اس قصے کو بیتے صدیاں گزر گئی ہیں لیکن وہ پہاڑ، جہاں رانجھے نے جوگ لیا، ٹلّہ جوگیاں کا تھا اور جہاں پتھر کا ایک تخت آج بھی رانجھے کے جوگ کی یادگار کے طور موجود ہے۔

جہلم سے تقریباً 20 کلومیٹر فاصلے پر سطح سمندر سے 3200 فٹ کی بلندی پر واقع ’ٹلّہ جوگیاں‘ یا جوگیوں کے ٹیلے کے اجڑے کھنڈرات میں صدیاں سانس لیتی ہیں۔

اپنے وقت میں فقیروں کی یہ ایک ایسی کٹیا تھی جہاں سلاطین وقت حاضری بھرتے اور جوگیوں کی سیوا کرتے تاکہ ان کے اقتدار کا سورج تا دیر بلند رہے۔

ٹیلے کے اونچے نیچے پتھریلے راستے، شکستہ مندر، بجھے چراغوں کے سیاہ طاقچے، کائی زدہ خشک تالاب، سوکھے پتے، بوڑھے شجر اور ٹیلے پر چاروں جانب گونجتا ہوا سناٹا۔ یہ سب بے زبان خاموشی گواہ ہیں کہ یہاں راجا پورس، سکندر اعظم اور اکبر بادشاہ سے لے کر ہیر کے رانجھے تک، سب نے دھونی رما کر اور تلک لگا کر اس ٹیلے کی رونق بڑھائی تھی۔

’ٹلّہ جوگیاں، جہاں صدیوں پہلے سورج کی پوجا ہوتی تھی‘

ٹلّہ جوگیاں کی قدامت صدی دو صدی کی نہیں بلکہ کم و بیش تین ہزار سال پر محیط ہے۔ مختلف مورخین اس حوالے سے مختلف شواہد پیش کرتے ہیں مگر اکثریت کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ ٹلّہ قبل مسیح بھی آباد تھا۔

ٹلّہ جوگیاں بظاہر ایک عام سی عبادت گاہ نظر آتی ہے مگر تاریخ کے گرد آلود صفحات پلٹتے جائیں تو اس ٹیلے سے لپٹی تحریر کی نت نئی داستانیں سامنے آتی چلی جاتی ہیں۔

مختلف مورخین اس کی قدامت کی دلیل کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً ’پوٹھوہار‘ کے مصنف عزیز ملک لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے میں کسی ہندو مہا پرش نے یہاں کوئی عبادت گاہ بنائی تھی اور مہا بھارت کے اختتام پر پانچوں پانڈو بھائی یاترا کرنے یہاں آئے تھے۔

صوفی محمدالدین زار ’تذکرہ جہلم‘ میں لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے میں یہاں سورج کی پوجا ہوتی تھی اور قدیم مقدس کتاب ’رگ وید‘ کے کچھ منڈل اور منتر بھی یہیں کہیں تخلیق ہوئے۔

یونان میں 46 عیسوی میں پیدا ہونے والے مورخ ’پلوٹارچ‘ کے مطابق یہ ٹلّہ سکندر اعظم کی آمد کے وقت بھی موجود تھا اور اپنے مضامین میں وہ اسے ’سورج کے لیے مقدس ٹیلا‘ (Hill Sacred to Sun) کے نام سے پکارتے ہیں۔

معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ اپنے ناول ’منطق الطیرجدید‘ کی ابتدا میں لکھتے ہیں کہ برطانوی فوجی افسر اور ماہر آثار قدیمہ الیگزانڈر کننگھم نے اپنی کتاب ’ہندوستان کا قدیم جغرافیہ‘ میں اس ٹیلے کے حوالے سے ایک عجیب داستان کا حوالہ دیا ہے جسے یونانی تاریخ داں پلوٹارچ نے اپنی تاریخ میں رقم کیا تھا۔

الیگزانڈر کننگھم نے اپنی کتاب میں لکھا کہ پلوٹارچ کے مطابق 326 قبل مسیح میں جب راجا پورس سکندرِ اعظم کے ساتھ مقابلے کی تیاریاں کر رہے تھے تو ان کا ہاتھی سورج کی مقدس پہاڑی پر چڑھ گیا اور انسان کی آواز میں پورس سے درخواست کی کہ وہ سکندر کے مقابلے پر نہ اُتریں۔

بعد ازاں اس پہاڑی کو ’ہاتھی کی پہاڑی‘ کے نام سے بھی پکارا جانے لگا۔

مستنصر حسین تارڑ صاحب اپنے سفر نامے ’جوکالیاں‘ میں لکھتے ہیں کہ سکندر اعظم کے تاریخ داں نے ٹلّہ جوگیاں کے پہاڑ کو ’ایلی فینٹ ماﺅنٹین‘ پکارا ہے اور جب وہ خود ٹلّہ جوگیاں کی جانب آ رہے تھے تو واقعی دور سے اس پہاڑ کی شکل پر ایک ہاتھی کا شائبہ ہوتا تھا۔

جہلم پر لکھی انجم سلطان شہباز کی کتاب ’تاریخ جہلم‘ کے مطابق ٹلّہ جوگیاں کو ماضی میں ’کوہ بال ناتھ‘ بھی کہا جاتا تھا۔

’ٹلہ جوگیاں جس سے تاریخ کے بڑے بڑے نام جڑے ہیں‘

ٹلّہ جوگیاں تاریخ، مذہب اور روایات کی دھند میں لپٹا ایک ایسا تحیرانگیز مقام ہے جس کی شکستہ دیواروں کے طاقچوں میں صدیوں پرانے بجھے چراغوں کی سیاہی دراصل وقت کے صفحات پر لکھی ہزاروں سال کی تاریخ کی انمٹ روشنائی ہے۔

یہاں کے مندر، سمادھی، تالاب اور گھنے اشجار سبھی سے تاریخ کے بڑے نام جڑے ہیں۔

بابا گرو نانک، گرو گورکھ ناتھ، گرو بال ناتھ، راجا سلواہن، راجا بھرت ہری، سکندر اعظم، مغل بادشاہ جلال الدین اکبر، نورالدین جہانگیر، غرض کہ ہر عہد کے سلاطین اور ہر مذہب کے پیشواؤں نے یہاں حاضری دی ہے۔

تاریخ میں یہ ٹلّہ دو بڑے ناموں سے مشہور ہوا، گرو گورکھ ناتھ اور صدیوں بعد گرو بال ناتھ۔

کہتے ہیں کہ گرو گورکھ ناتھ نے اجین کے راجا بکرماجیت اور سیالکوٹ کے راجا سلواہن کے عہد میں یہاں ڈیرا لگایا اور مہا یوگی شیو دیوتا کی پوجا کو رواج دیا اور ناتھ پنتھ قائم کیا۔

راجا بھرت ہری، پورن بھگت اور راجا رسالو جیسی شخصیات کا تعلق گرو گورکھ ناتھ کے دور سے ہی ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ ٹلّہ جوگیاں پر اس قدیم خانقاہ کی بنیاد ’کن پھٹے‘ جوگیوں کے سلسلے کے بانی گرو گورکھ ناتھ نے ایک صدی قبل مسیح رکھی تھی۔

یہ ٹلّہ تقریباً دو ہزار سال آباد رہا۔ گرو بال ناتھ کا زمانہ شاید 15ویں صدی عیسوی رہا ہو گا کیونکہ ٹلّے اور رانجھے کے جوگ کا ذکر پنجابی نظم ہیر رانجھا میں بھی ملتا ہے۔

رانجھا ہیر کے پیار میں ناکام ہو کر ٹوٹے دل کے ساتھ یہاں آیا اور اپنے کان چھدوا کر جوگی بال ناتھ کا چیلا بن گیا تھا۔

ٹلہ جوگیاں سے منسوب کہانیاں

اس ٹلّے سے وابستہ سب سے مشہور قصہ رانجھا کا ہے۔ ٹلّے پر موجودہ ریسٹ ہاؤس کے ڈھلوانی راستے کے آخری موڑ پر پتھر کی وہ سِل آج بھی موجود ہے جہاں پر رانجھے نے ہیر کے عشق میں اپنے کان چھِدوائے اور جوگ لیا۔

گرو بال ناتھ نے اس غم کے مارے کے بدن پر راکھ ملی اور کان میں مندرے ڈال کر اپنا چیلا بنا لیا مگر عشق کی آگ نے رانجھے کو یہاں بھی ٹکنے نہ دیا اور وہ جوگی بن کر بھی ہیر کی تلاش میں سرگرداں رہا۔

اس ٹلّے سے وابستہ ایک دلچسپ داستان پورن بھگت کی بھی ہے۔ برطانوی ماہر بشریات آر سی ٹیمپل کی 1886 میں شائع ہونے والی کتاب ’پنجاب کی لوک کہانیاں‘ میں سیالکوٹ کے ایک راجا سلواہن کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کی دو رانیاں تھیں۔

ایک اچھراں اور دوسری لوناں۔ رانی اچھراں کا ایک ہی بیٹا تھا پورن، جو چندے آفتاب و چندے ماہتاب تھا۔

اس کی سوتیلی ماں لوناں پورن پر فریفتہ ہو گئی اور جب وہ اس کے بہکاوے میں نہ آیا تو اس نے راجا سے پورن کی جھوٹی شکایت کی۔

راجا رانی لوناں کی باتوں میں آ گیا اور اپنے بیٹے کے ہاتھ پیر کاٹ کر اسے کنوئیں میں پھنکوا دیا، جو آج بھی سیالکوٹ سے کلوال جانے والی سڑک پر موجود ہے۔

پورن کئی برس تک اسی کنوئیں میں پڑا رہا۔ ایک روز گرو گورکھ ناتھ ادھر سے گزرے۔ انھوں نے اتفاق سے اپنا ڈیرا اسی کنوئیں پر لگایا اور اس کے بعد پورن کو کنوئیں سے نکلوایا اور اپنی روحانی طاقت سے پورن کا حال جانا۔

جب انھیں معلوم ہوا کہ پورن بے گناہ ہے تو خدا سے دعا کی یوں پورن کے ہاتھ پاؤں سالم ہو گئے۔

گرو نے اس کے کان چھِدوا کر اپنا چیلا بنا لیا۔ گرو گورکھ ناتھ کے ہی حکم پر پورن واپس گھر گیا تو اس کی سوتیلی ماں نے اس سے معافی مانگی اور اولاد کے لیے دعا کروائی۔

پورن نے سوتیلی ماں کو معاف کر دیا اور اس کی دعا سے اس کی سوتیلی ماں کی گود بھی بھر گئی۔

آج بھی بے اولاد لوگ اولاد کی خواہش میں پورن بھگت سے منسوب اس کنوئیں پر آتے ہیں اور اس کے پانی میں پھولوں کی پتیاں پھینکتے ہیں۔

اولاد کی خواہش مند خواتین اس کنوئیں کے پانی سے غسل کرتی ہیں، نئے کپڑے پہنتی ہیں، پھر پرانے کپڑے جوتے روایت کے مطابق سب کچھ وہیں جلا دیے جاتے ہیں۔

ٹلّے کے حوالے سے جوگی راجا بھی بہت مشہور داستان ہے۔ جب راجا بھرت ہری اجین کا حکمران بنا تو وہ 375 اور380 قبل مسیح کا درمیانی دور تھا۔

ان کی بھی دو رانیاں تھیں۔ سیتا دیوی اور پنگلا دیوی اور دونوں ہی حسن و جمال میں یکتا تھیں مگر بھرت ہری سیتا کے حسن کا دیوانہ تھا۔

یہ بھی ایک طویل داستان ہے جس کو اگر مختصراً بیان کیا تو ہوا یوں کہ راجہ بھرت ہری کی محبوبہ بیوی سیتا اپنے شوہر سے بے وفائی کی مرتکب ہوتی ہے اور پھر راز کھلنے پرخود کشی کر لیتی ہے۔

راجا بھرت ہری دودھ کا جلا تھا لہذا دوسری بیوی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک موقع پر اس کی وفا کا امتحان لینے کے لیے اپنی موت کی جھوٹی اطلاع اس تک پہنچاتا ہے تاکہ وہ اس کا ردعمل جان سکے۔

وفا کی ماری پنگلا دیوی شوہر کی موت کی خبر سنتے ہی گر کر جان دے دیتی ہے۔

ان دونوں واقعات کا راجا بھرت ہری پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ تخت و تاج اپنے بھائی بکرماجیت کو سونپ کر نروان کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

اس کی تلاش اسے کوسوں دور نمک کے بلند و بالا پہاڑ اور جوگیوں کے مشہور استھان ٹلہ جوگیاں تک لے آتی ہے۔

گرو گورکھ ناتھ کے پیار بھرے برتاؤ سے راجا کی بے کلی کچھ کم ہوتی ہے لیکن غم کا مارا یہ راجا زیادہ نہیں جی پاتا اور بہت جلد اس کی سانسوں کی ڈور اسی پہاڑ پر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کی سمادھی بھی وہیں کہیں موجود تھی جو اب بے نشاں ہو چکی ہے۔

راجا بھرت ہری شاعر بھی بے مثل تھا۔ پاکستان کے قومی شاعر علّامہ اقبال نے اس کے سنسکرت میں کہے گئے ایک شعر کو ترجمہ کر کے امر کر دیا ہے۔ وہ شعر یہ ہے:

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر،،، مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

آج کے جوگیوں کے برعکس یہ جوگی علم اور تحقیق میں مصروف رہتے۔ مختلف حوالوں کے مطابق ان ہی جوگیوں نے دیسی طریقہ علاج آیور ویدک متعارف کروایا۔

جڑی بوٹیوں سے علاج کا فن، علم نجوم کے علاوہ یوگا کی ایجاد اور قواعد و ضوابط ان ہی جوگیوں کے مرہونِ منت ہیں۔

ٹلّہ پر رہنے والے یہ جوگی انسانی آبادیوں سے دور جنگلوں میں نایاب جڑی بوٹیاں تلاش کر کے ان سے ادویات تیار کرتے اور بیمار لوگوں کی خدمت کرتے۔ لوگ بھی ان جوگیوں کی عزت کرتے۔

ڈائریکٹر آف انفارمیشن اینڈ کلچرل ڈپارٹمنٹ پنجاب اور میوزیم ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری میاں عتیق احمد بتاتے ہیں کہ ٹلّہ جوگیاں پر جوگی اپنا اکٹھ کرتے تھے۔

اسی پہاڑ کی بلند چوٹی پر بیٹھ کر دنوں، مہینوں اور برسوں کا حساب کرتے۔ اس کے لیے وہ چڑھتے سورج کی شعاعیں ناپ تول کر دوپہر میں وہ قدرتی گھڑیال بناتے تھے۔ وقت کے تعین کے لیے آٹھ پہر بھی ان ہی جوگیوں کے مرتب کردہ ہیں۔

ٹلّے کے اچھے وقتوں میں ہر سال 14 ماگھ کو اس پہاڑ پر بڑی دھوم دھام سے شیو کی یاد میں میلہ منعقد کیا جاتا تھا جو انڈیا کے بڑے میلوں میں شمار ہوتا تھا۔

میلے کے دنوں میں ٹلّے کے چاروں جانب یاتریوں کے گھوڑے اور خچروں کی قطاریں نظر آتیں اور رات کو چراغاں کا سماں ہوتا۔

قیام پاکستان کے بعد یہ جوگی جاتے ہوئے ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

یونیورسٹی آف گجرات میں تاریخ اور پاکستان سٹڈیز ڈپارٹمنٹ کے لیکچرر ڈاکٹر محمد کاشف علی کے مطابق یہاں مختلف ادوار کی یادگاریں ہیں۔

روایات کے مطابق یہاں گرو نانک نے چلّہ کیا تھا۔ اسی مقام پر ایک یادگار قائم کی گئی جو حیرت انگیز طور پر مزار قائداعظم سے مشابہت رکھتی ہے۔

اس عمارت کو گرونانک کی یادگار کے طور پر مہاراجا رنجیت سنگھ نے بنوایا تھا۔

میاں عتیق احمد کے مطابق اس اہم آثار قدیمہ کی تباہی ان لوگوں کے ہاتھوں زیادہ ہوئی ہے جو یہاں خزانہ ڈھونڈنے آتے ہیں اور ان اہم آثار کو کھود ڈالتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے تک یہاں تالاب کے ساتھ بارہ، پندرہ سمادھیاں موجود تھیں اور تالاب کے شمالی جانب پیپل اور جنگلی زیتون کے گھنے سائے میں بھی کئی مندر اور سمادھیاں موجود تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ سطح زمین کی عمارات کے نیچے بھی ایک تہہ مزید پرانی عمارات کی ہے اور کہیں ملبے تلے محرابیں، کہیں بوسیدہ دیوار اور کہیں سیڑھیاں جو کسی گم گشتہ عمارت کے اندر اترتی ہیں۔

یہاں ہر پل ایک گمبھیر خاموشی طاری رہتی ہے جسے صرف ہوا کی سرسراہٹ یا پرندوں کی چہچہاہٹ توڑتی ہے۔

مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے 16ویں صدی عیسوی میں دو بار اس مقدس پہاڑ کا دورہ کیا اور ان جوگیوں کے لیے عظیم الشان تالاب بنوایا۔

کہا جاتا ہے کہ جب بادشاہ ننگے سر اور ننگے پاﺅں یہاں پہنچا تو اس وقت یہاں ہزاروں سادھو موجود تھے جو بادشاہ کو حیرانی سے تکتے تھے۔

مغل شاہی مورخ ابو الفضل لکھتے ہیں کہ 1581 میں بادشاہ نے ٹلّہ بال ناتھ پر جوگیوں کے گرو سے ملاقات کی اور بات چیت کر کے ان سے متاثر ہوئے۔

تزک جہانگیری سے بھی پتا چلتا ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر نے 1607 میں کشمیر جاتے ہوئے جب قلعہ روہتاس میں پڑاؤ کیا تھا تو شکار کی غرض سے ٹلّہ آئے تھے اور یہاں دربار بھی لگایا تھا۔

میاں عتیق احمد کے مطابق آریاؤں کی بھی پہلی قیام گاہ وادی جہلم تھی۔

چونکہ آریا چاند سورج اور ستاروں کو ماننے والے تھے اس لیے ان کی عبادت کے لیے ٹلّے کا اونچا مقام ہی بہترین ٹھکانا ہو سکتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ گروبال ناتھ کا استھان جو ٹلّے کے سب سے اونچے مقام پر بنا ہوا ہے، اُس کے نیچے ایک غار ہے جس سے چند قدم کے فاصلے پر پہاڑ کی چوٹی پر ایک عبادت گاہ کے آثار ہیں جو ایسی جگہ پر ہے جہاں سے سورج اپنے طلوع سے غروب تک ایک خاص زاویہ بناتے ہوئے گزرتا ہے۔

ٹلّہ جوگیاں کیوں اجڑ گیا؟

دلی شہر کی مانند یہ تاریخی ٹیلہ بھی کئی بار اجڑا اور پھر آباد ہوا۔ حالیہ تاریخ میں 18ویں صدی عیسویں میں احمد شاہ ابدالی نے اس ٹلّے کو تاراج کر دیا تھا لیکن جب قتل و غارت کا دور ختم ہوا تو جوگی پھر لوٹ آئے تھے اور ٹلّہ پھر سے آباد ہو گیا تھا۔

آخری بار یہ 1947 کی تقسیم کے بعد اجڑ گیا۔

ڈاکٹرمحمد کاشف علی کے مطابق ٹلّہ انڈیا کے جوگیوں کا مرکز حیات تھا اور پھر تقسیمِ ہند کے بعد ایک ریاست ہندو ہو گئی اور دوسری مسلمان، تو جوگی کیا کرتے؟

’وہ ہندو بھی تھے، مسلمان بھی اور سکھ بھی یا شاید سب کچھ تھے۔ تو بس وقت وہیں رک سا گیا اور ٹلّہ پھر آباد نہ ہو پایا اور جوگی دھیرے دھیرے اس ٹیلے کو چھوڑ کر جاتے رہے۔‘

سابق ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی آف پنجاب ڈاکٹر سیف الرحمان ڈار کے مطابق سنہ 1947 کے بعد ٹلّے پر موجود جوگیوں کا سپورٹ سسٹم ختم ہو گیا۔

یہاں باقاعدہ سکھوں کی کمیٹی بنی ہوئی تھی جس سے ان جوگیوں کو مالی اور انتظامی مدد ملتی تھی۔

ریکارڈ کے مطابق 60 فیصد ہندو یا سکھ جوگی تھے جبکہ 40 فیصد مسلمان بھی تھے۔ تقسیم کے بعد جب یہ واضح ہو گیا کہ یہ مسلمان ریاست ہے تو غیر مسلم جوگی یہاں سے رخصت ہو گئے۔

جوگیوں کا یہ ٹیلہ برصغیر پاک وہند میں مذہبی ہم آہنگی کی بہترین مثال تھا جہاں ہر مذہب کے جوگی آزادی سے اپنی عبادات کر سکتے تھے۔

ہندو اور سکھوں کے لیے اس ٹلّے کی بڑی اہمیت ہے اور شاید اب بھی یہ موقع ہے کہ ان قدیم آثار کو بحال کر کے مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ
بی بی سی اردو

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button