جی ٹی روڈ جادہ کراس کرنا شہریوں کیلئے پل صراط عبور کرنے کے برابر، حادثات معمول بن گئے

0

جہلم: جادہ کے مقام پر جی ٹی روڈ کراس کرناشہریوں کیلئے پل صراط عبور کرنے کے برابر ہو گیا ۔آئے روز حادثات معمول بن گئے۔ جی ٹی روڈ پر سروس روڈپرتجاوزات قائم ہونے اور انڈرپاس یا اوور ہیڈ پل نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں افراد زندگی کی بازی ہارگئے ، ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے انسپکٹر جنرل موٹر وے پولیس سے سروس روڈ سمیت اوور ہیڈ یا انڈر پاس پل تعمیر کرنے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق ہر چھوٹے بڑے شہر میں جی ٹی روڈ کو کراس کرنے کے لئے انڈرپاس یا اوور ہیڈ پل موجود ہیں جبکہ سروس روڈ پر اندرون شہر کی چھوٹی بڑی گاڑیاں آمدورفت کے ذریعے جی ٹی روڈ پر داخل ہوتی ہیں لیکن جہلم وہ واحد شہر ہے جس میں یہ سہولت موجود نہیں۔

جادہ کے مقام پرشہریوں کیلئے جی ٹی روڈ عبور کرنا جان جوکھوں کا کام ہے جس کے باعث سینکڑوں شہری زندگی کی بازیاں ہارچکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ اوور ہیڈ پل یا انڈرپاس پل کا تعمیر نہ ہونا ہے ، جس کی اشد ضرورت ہے جہاں صبح کے وقت بچوں کو سکولوں میں جانے اور آنے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ جادہ تا راٹھیاں تک سروس روڈ نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو آبادیوں کے اندر نقل و حرکت کرنے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا، شہری چھوٹے چھوٹے کاموں کے سلسلے میں جی ٹی روڈ عبور کرکے دوسری طرف جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہائی وے پولیس ہیلمٹ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر موٹر سائیکل سواروں کے چالان کرتے نظر آتے ہیں۔

شہریوں کاکہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے کے ارباب اختیار نے جی ٹی روڈ توبنادی ہے لیکن اس کی توسیع میں حکمرانوں کی آشیر باد سے ناقص وغیر معیاری مٹیرل کا استعمال کیا گیاہے جس کی وجہ سے گزشتہ برس تعمیر و مرمت ہونے والی جی ٹی روڈ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہے جس کیوجہ سے آئے روز حادثات رونما ہو رہے ہیں ۔

شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف پر سروس روڈ پر قائم تجاوزات کو واگزار کروانے کے ساتھ ساتھ جادہ کے مقام پر اوورہیڈ یا انڈر پاس پل تعمیر کروایا جائے تاکہ شہری محفوظ اور بے خوف و خطر آمدورفت جاری رکھ سکیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.