تبدیلی اور سوہاوہ کے مسائل

تحریر: احسن وحید

0

سوہاوہ بنیادی ضروریات سے محروم تبدیلی کا دعویٰ لے کر آنے والے حکومت سابقہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام جبکہ حلقہ پی پی پچیس کی عوام تاحال سوئی گیس، صاف پانی کی فراہمی، نوجوانوں کے لیے گراؤنڈز، گرلز اینڈ بوائز ڈگری کالج میں اساتذہ کی تعیناتی، سروس روڈ کی مرمت، سٹریٹ لائٹس، روڈ لائٹس، غریب ریڑھی بانوں کے لیے کھوکھوں کی تعمیر، دیہی علاقوں میں سکولز اور رورل ہیلتھ سینٹرز میں جدید سہولیات کی فراہمی بالخصوص رورل ہیلتھ سنٹرز میں ڈاکٹروں کی تعیناتی اور ادویات کی فراہمی سمیت دور دراز علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر سے محروم ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت کے منتخب نمائندے تبدیلی کا خواب دکھاکر ووٹ لینے والے اس حلقہ کی عوام کی بنیادی ضروریات کی محرومی سے نجات دلانے میں کامیاب ہونگے۔

سوہاوہ میں شہر میں پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے جبکہ رمضان المبارک کے قریب آتے ہی موٹروں کی مرمت اور پائپ لائنز کو ٹھیک کرنے کے نام پر لاکھوں روپے کی دمی بلز ہڑپ کر لیے جائنگے لیکن احتساب کا جھانسہ دینے والوں نے صرف عوام کو لولی پاپ دیا ہوا ہے اور اینٹی کرپشن سمیت نیب جیسے ادارے بھی یا تو اپنی جیبیں گرم کر رہے ہیں یا پھر وہ ان مگر مچھوں کے آگے بے بس ہیں کیونکہ آج تک نہ تو میونسپل کمیٹی اور تحصیل آفس کا کوئی آڈٹ ہو سکا اور نہ ہی کرپشن کو روکنے کے لیے کسی قسم کا آڈٹ کروایا گیا سر عام بغیر نیلامی۔ رکشہ اسٹینڈ نہ ہونے کے باوجود میونسپل کمیٹی کی پرچی دے کر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ جنرل بس اسٹینڈ جس کی آمدن لاکھوں روپے ماہانہ ہونی چاہے محض ملی بھگت سے چند ہزار ہے۔

رمضان المبارک کے قریب آتے ہی منڈیوں میں سبزی فروٹ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ شروع کر دیا گیا ہے لیکن پچھلے دس پندرہ سالوں میں نام نہاد مارکیٹ کمیٹیوں میں موجود کالی بھیڑیں اتنی بااثر ہیں کہ ریٹ کنٹرول کرنے کے بجائے اپنی جیبیں گرم کر کے غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں کسی بھی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر نے آج تک منڈی میں آنے والی سبزی اور فروٹ کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کوئی بھی عملی اقدام نہیں آیا سابقہ حکومت کی ان غلطیوں کو درست کرنے کے لیے اب تک تبدیلی کے دعویداروں نے اس پر کوئی پالیسی نہیں بنائی اور اس سال بھی رمضان المبارک میں مہنگائی کا طوفان آتا دکھائی دے رہا ہے .

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوہاوہ جہاں کبھی ایک سرنج تک نہیں ملتی تھی وہاں سابقہ دور حکومت میں سو فیصد مفت ادویات ملتی رہیں اور ماہانہ سینکڑوں آپریشن مفت ہوتے رہے بیڈز کی کمی کو دور کرنے کے لیے نئی بلڈنگ کی تعمیر شروع ہوئی جو موجودہ حکومت کی عدم دلچسپی کی نظر ہو کر تاحال تعمیر التوا کا شکار ہے جبکہ لاکھوں کی ابادی کے لیے واحد تحصیل ہیڈ کوارٹر پچھلے پانچ ماہ سے سرجن سے محروم ہے اور پہلے انتھیسیا اسپیشلسٹ اور اب سرجن کی کمی کی وجہ سے غریب عوام مہنگے ہسپتالوں میں آپریشن کروانے کر مجبور ہیں ۔

انشاء اللہ اگلے حصے میں دیگر مسائل پر سابقہ اور موجودہ حکومت کے نمائندوں اور ان کی پالیسیوں پر بات کرونگا۔

(جاری ہے)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.