رمضان بازار کی صورت میں عوام سے تاریخی مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ شہری حلقے

0

رمضان بازار کی صورت میں عوام سے تاریخی مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ صرف ایک کلو گرام چینی شناختی کارڈ دکھا کر ملتی ہے ۔سوہاوہ کے شہریوں نے کمشنر راولپنڈی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل صدر مقام سوہاوہ میں منعقدہ رمضان بازار میں اشیاء کے نرخ عام بازار سے بھی زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ اشیاء بھی غیر معیاری دستیاب ہیں نیز چینی بالکل ناپید ہیں ایک دوکاندار کو چینی کا اجارہ دار بنا دیا گیا ہے ۔ رمضان بازار کے خریداروں کو صرف ایک کلو گرام چینی شناختی کارڈ دکھا کر ملتی ہے ۔حکومت کے دعوے رمضان بازار ہو یا یوٹیلٹی سٹور کھوکھلے نعرے کے سوا کچھ نہیں ہیں ۔

سوہاوہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب تبدیلی کا نعرہ لگانا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ رمضان بازار لگا کر گزشتہ حکومتیں بھی عوام سے مذاق کرتی رہیں موجودہ حکومت ذرا بڑا مذاق کر رہی ہے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو غور کرنا چاہیے کہ ان رمضان یا لوٹ بازاروں تک کتنے فیصد عوام کی رسائی ممکن ہے ۔

سوہاوہ اور گردونواح کے صارفین نے کمشنر راولپنڈی ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان رمضان بازاروں کو از خود نوٹس لیں کیونکہ انتظامیہ کی طرف سے سب بڑوں کو سب اچھا کی نام نہاد اطلاع کا سلسلہ جاری ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.