جہلم

صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ہرطرح سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ فواد چوہدری

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت میڈیا ورکرز کو پوری طرح سپورٹ کرے گی، میڈیا ورکرز اور صحافیوں کو وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت گھر اور صحت کارڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے، صحافی فرنٹ لائن ورکرز ہیں، امید ہے کہ صحت کے شعبے کو ڈیل کرنے والے صحافیوں کی ویکسی نیشن کا عمل رواں ہفتے شروع ہو جائے گا۔

بدھ کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات میں اصلاحات کا جو سلسلہ 2018ء میں شروع کیا تھا اسے وہیں سے دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے، ٹی وی کو فعال بنانا، میڈیا یونیورسٹی کا قیام، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو جدید ڈیجیٹل نیوز ایجنسی بنانا، ایکسٹرنل پبلک سٹی ونگ کو آگے لیکر جانا، فلم پالیسی پر عمل درآمد، انگلش ٹی وی چینل کی بنیاد اور بچوں کیلئے کرکٹ کے علاوہ سپورٹس چینل لانا ترجیحات میں شامل ہے اور اگلے اڑھائی سالوں میں ان سارے پروگراموں کو مکمل کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ میڈیا ورکرز کو بہت سپورٹ کی ضرورت ہے، حکومت میڈیا ورکرز اور صحافیوں کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے انہیں صحت کارڈ، ہاؤسنگ سکیم کے تحت گھر دینے اور وقت پر ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے تین بنیادی چیزوں پر کام کر رہی ہے جس کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

صحافیوں کو کورونا ویکسی نیشن مہیا کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں کو مفت ویکسی نیشن فراہم کرے گی، صحافی فرنٹ لائن ورکرز ہیں، خصوصاً صحت کے شعبے کو ڈیل کرنے والے صحافی جنہیں روزانہ ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے، انہیں ویکسی نیشن دینے کیلئے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان سے بات ہوئی ہے، امید ہے کہ رواں ہفتے صحت سے متعلقہ صحافیوں کی ویکسی نیشن کا عمل شروع ہو جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان ڈرامہ اور فلم سازوں کو معیاری ڈرامے اور فلمیں بنانے کیلئے کامیاب جوان پروگرام کے تحت قرضے دیئے جائیں گے اور اس مقصد کیلئے حکومت نے کامیاب جوان پروگرام میں 5 کروڑ روپے رکھے ہیں۔

عید کے چاند سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قمری کیلنڈر کے مطابق رواں سال 29 روزے ہوں گے، کوئی بھی شہری رویت ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے خود بھی چاند سے متعلق معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button