رحمتوں والے مہینے میں مہنگائی کا قہر برساتا سورج

تحریر: محمد امجد بٹ

0

رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں جاری و ساری ہیں مگر اس کے ساتھ ہی گراں فروشی،مہنگائی،ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کا جلا کر بھسم کر دینے والازہریلا سورج سوا نیزے پہ آ گیا ہے۔

ادھر رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول اور پھوار برسے گی تو دوسری طرف شیطان کے ناجائز منافع خور،ذخیرہ اندوز،کم تولنے والے،دروغ گوئی سے ناقص اشیاء کومنہ مانگے داموں فروخت کرنے والے چیلے باہم اکا کر کے بے وسیلہ ،بے بس روزہ داروں،غریبوں اور ناداروں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے اور ان سے خوانِ نعمت چھیننے کے درپے نظر آ رہے ہیں۔

تیس دن یا ان سے ایک کم دن روزہ رکھنے والے،بھوکے پیاسے رہ کرتسلیم و رضا کی مثال بن کر،نفس کشی کرنے والوں کو جزا تا اللہ کریم ہی دے گا۔لیکن ان دندناتے ، عوام کو لوٹنے والے،ذخیرہ اندوزوں اور چوروں ڈاکوؤں کو لگام کون ڈالے گا؟کوئی انجمن تاجران،کوئی چیمبر آف کامرس،ایونوں میں بیٹھے فرماں روا،صوبائی حکمران ، نئے پاکستان کے علمبردار،معاشی حب کے قابضین، ضلعی انتظامیہ یا پھر ان میں سے کوئی نہیں اور نہ ابھی تک کوئی ہے بھی۔دیکھتے ہیں کہ کون رجل رشیددن دیہاڑے اونٹ کے منہ والے ذخیرہ اندوزوں کے ہاتھوں لٹنے والے بندہ ء مومن کے دکھوں کا مداوا کرے گا۔

رمضان المبارک میں شیطان کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے تاکہ اہلِ ایمان اسکے سر سے محفوظ رہیں،شیطان یقینی طور پر قید ہی ہو گامگر اسکے چیلے نہ صرف آزاد ہیں بلکہ اپنی من مانیاں کرتے ہوئے خدا کے بندوں کوایذار سانی کے لئے تن من دھن سے مصروف عمل ہیں۔ماہ رمضان المبار کی فوقیت اور فضلیت کی گواہی قرآنِ کریم فرقانِ حمیددیتا ہے۔روزہ وہ عبادت ہے جودینِ اسلام اور ایمان کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔

ماہ رمضان المبارک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسکو باقی مہینوں پر قیاس نہ کرناکیونکہ اس میں اللہ تعالی ٰنے اپنی لاریب کتاب قرآن مجید جیسی نعمت کا نزول فرمایا۔یہ ماہ مبارک وہ ہے جس کو نیکیوں کی بہار لکھا گیا۔یہ وہ ماہ مقدس ہے جسے بارے میں رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کو شعبان کے آخری دن خاص طور پر مخاطب کر کے فرمایاکہ لوگو’’تم پہ وہ ماہ مبارک سایہ فگن ہونے والا ہے جو رحمتوں اور برکتوں والا ہے‘‘۔ماہ صیام صبر کا مہینہ ہے اور اسکا بدلہ اور صلہ صرف جنت ہوا کرتی ہے۔

روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کام نام نہیں بلکہ نفسانی خواہشات سے بچنا،جھوٹ سے باز رہنا،ذخیرہ اندوزی سے بچنا،گراں فروشی سے بچنا،کم تولنے سے بچنا،ناقص اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے سے بچنابھی روزے کا مقامِ خاص ہے۔مجھ گناہگار کو تفہیم دین کا دعویٰ نہیں نہ ہی میں کوئی مذہبی سکالر،مبلغ،واعظ یا عالم ہوں مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو تاجر،جو دکاندار،جو آڑھتی،جو ذخیرہ اندوز،جوسرمایہ داراپنے ذاتی فائدے اور لالچ کی خاطرعام انسان اور بلخصوص مسلمان بھائی کو اس ماہ مقدس میں جائز اور حلال کمائی سے چند کھجوروں اوراور سالن روٹی سے محروم کر دے وہ مسلمان تو ایک طرف انسان کہلوانے کا بھی حقدار نہیں۔میرے خیال میں تو بلکل بھی نہیں۔

عام آدمی چند روپوں کی رعایت کے لئے یوٹیلٹی سٹوروںاور حکومت کے حکم پر ضلعی انتظامیہ کے ڈھکوسلہ سستے رمضان بازاروں میں دھکے کھا کر غیر معیاری اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں۔ میرا ایمان کامل ہے کہ شیطان کے یہ تمام چیلے کل بارگاہ الہیٰ میں ہمارے مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔

مجھے یقین ہے کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی سے جیبیں بھرنے والے خسارے میں رہیں گے۔کیونکہ اللہ کی مخلوق کو ایذا پہنچانے والے گھاٹے میں ہی رہتے ہیں۔اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو پھر انکا ’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.