بیٹی سے طوائف تک

تحریر: چوہدری زاہد حیات

1

اپنے کمرے میں بیٹھ کر اپنی لاڈلی گڑیا کو کھیلتے دیکھ کر دل میں عجیب سا سکون تھا اور جب وہ بابا کہتی تو یہ لفظ کانوں کو بہت بھلا لگتا دل سے دعا نکلتی کے اللہ سارے جہان کی خوشیاں میری گڑیا کی جھولی میں ڈال دے سب باپوں کو اپنی بیٹیاں ایسے ہی پیاریاں ہوں گی۔ سب والدین کی خواہش یہی ہوگی کہ ان کی بیٹیاں خوشیوں سے کھیلتی رہیں بس یہاں سے دماغ بہکتا چلا گیا۔

عجیب لیکن تلخ حقیقتیں سامنے آنے لگیں کہ دنیا میں کوئی ایسا باپ ہو گا جو چاہے گا کہ اس کی بیٹی پیروں میں گھنگرو باندھ کے مردوں کے جھتوں میں ناچے کوئی ماں ایسی ہو گی جو چاہے گی کہ اس کے جگر کا ٹکڑا کھوٹے ہر ادائیں دکھائے اور غیر محرم مردوں کو جسم بیچے نا کوئی ماں چاہے گی نا کوئی باپ چاہے گا کہ ان کی پری سر بزار نیلام ہوتی پھرے وہ مر جانا قبول کریں گے پر بیٹی کو نیلام نہیں ہونے دیں گے۔

تو پھر یہ جو بیٹاں پاؤں میں گھنگرو باندھ کے ناچتی ہیں یہ کہاں سے آتیں ہے اور پھر وہ بیٹیاں جو ہوس زدہ لوگوں کا شکار بننے پر مجبور ہوتیں وہ کہاں سے آتیں ہیں ان کے ماں باپ کہاں ہوتے ہیں اور جو بیٹیوں کے باپ ان کا تماشا دیکھتے اور ان کی مجبوریوں کو خرید کر انھیں روندتے ان کو ان مجبور بیٹوں میں اپنی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتیں۔

یہ گھنگرو باندھ کر ناچنے والی بیٹاں بھی ہماری غیرت کے منہ پر تماچے مارتیں اور اپنے آپ مجبوریوں کی وجہ سے بیچنے والی بیٹاں ہماری غیرت کو موت کا کفن پہناتیں۔ یہ بھی بیٹاں ہی ہوتیں جن کو کال گرل اور طوائف کا نام دیا جاتا ان بیٹیوں کو گالی بنا دیا جاتا۔بھلا بیٹاں بھی کبھی گالی بن سکتیں یہ تو آللہ کی رحمت ہوتیں تو پھر ان بیٹیوں کو گالی کون بناتا ہے۔ پھر ان بیٹیوں کو نچانے والے کون ہیں پھر ان بیٹیوں کو بیجنے والے کون ہیں لوگ انھیں دلال کہتے ہیں کیا ان دلالوں کی بیٹاں نہیں ہوتیں۔

جو یہ ان بیٹیوں کو ناچنے پر مجبور کرتے جو ان کو اپنے آپ بیچنے پر مجبور کرتے۔ اور جو ان بے بس بیٹیوں کو خریدتے ان کا تماشا دیکھتے نشے میں دھت سر عام ان کو رسوا کرتے ان کو کیا نام دیا جائے۔ طوائف اور کال گرل بھی کبھی بیٹی تھی کبھی وہ بھی اپنے باپ کی آنکھوں کا تارا تھی بیٹی سے طوائف تک اس سفر میں سارے باپ ہی قصوروار۔ بیٹی سے طوائف تک یہ سفر اس نے ایسے ہی نہیں طے کیا۔

اللہ کی اس رحمت کو طوائف کا روپ دینے میں یہ سارا با غیرت معاشرہ قصور وار ہے۔جب بھی کوئی بیٹی اس مسلم معاشرے میں گھنگرو باندھ کے شرابیوں کے آگے ناچتی جب بھی کوئی بیٹی اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں کسی باپ کے ہاتھوں پامال ہوتی کیونکہ کسی مجبور بیٹی کو پامال کرنے والا بھی کسی بیٹی کا باپ ہوتا ہے تو غیرت اپنی موت آپ مر جاتی اور معاشرے کی یہ طوائف بیٹاں ہمیشہ اپنی مجبوریوں اور نام نہاد غیرت پر بین کرتیں رہتیں۔

یقین کیجیے یہ طوائفیں بھی اس معاشرے کی بیٹیاں ہیں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
  1. مرزا احسان الحق بیگ کہتے ہیں

    چوھدری زاہد صاحب کا کالم اس معاشرے میں چھپے بھیڑیوں کو جنجہوڑنے کی اچھی کاوش ہے۔ جزاک اللہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.