جہلماہم خبریں

جہلم شہر و گردونواح میں آٹے، چینی کا بحران شدت اختیار کرگیا

جہلم: شہر و گردونواح میں آٹے ، چینی کا بحران شدت اختیار کرگیا، غریب و متوسط طبقے کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگے۔شہریوں نے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پچھلے 13 ماہ میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے ، چینی اور آٹے کی ملوں کے مالکان حکومت میں موجود ہیں جن کے سامنے ہمارے حکمران بے بس دکھائی دیتے ہیں ، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک بھر میں جنگل کا قانون نافذ ہے 13 ماہ میں 13 مرتبہ بجلی کے بلوں میں اضافہ کیا گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ13 مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیااور وزیراعظم پاکستان نے ہر ماہ کے آخر میں یہی نوید سنائی کے اگلے ماہ سے وطن عزیز کی عوام کو ریلیف فراہم کیا جائیگا۔ نہ تو اگلا ماہ آرہا ہے اور نہ ہی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ2020 کے اوائل میں اس قدر اشیاء خوردونوش میں اضافہ کر دیا گیا ہے کہ شہری مارے مارے آٹا، چینی کی تلاش میں دکانوں پر دھکے کھانے پر مجبور ہیں تاجروں نے اشیاء خوردونوش گوداموں میں سٹاک کر رکھی ہے اور ہر اگلے دن مہنگی اشیاء فروخت کرنے کا انتظار کیا جاتاہے۔
ضلع جہلم کے شہریوں نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے بیوی بچوں کو 2 وقت کی روٹی مہیا کر سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button