جہلم

جہلم میں چائلڈ لیبر کی کھلے عام خلاف ورزی جاری، محکمہ لیبرکے افسران خاموش تماشائی

جہلم: شہر اور گردونواح کے علاقوں میں چائلڈ لیبر کی کھلے عام خلاف ورزی جاری، محکمہ لیبرکے افسران خاموش تماشائی، 6 سے 12سال کے بچوں سے جبری مشقت لینے کا انکشاف ،بچوں پر جنسی تشدد بھی کیا جاتا ہے ،محکمہ لیبر کے انسپکٹر ز اپنا حصہ وصول کرکے سب اچھا ہے کی رپورٹس ارسال کرنا معمول بنالیا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر و گردونواح میں چائلڈ لیبر قوانین کی خلاف ورزی پورے عروج پر ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف بھٹوں پر ہی دورے کر کے اپنی رپورٹس تیار کر کے اعلیٰ حکام کو پیش کر رہے ہیں لیکن اس کے برعکس کمسن بچوں کو انتہائی قلیل تنخواہ پر جبری مشقت لینے کا سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے کم آمدنی اور متوسط طبقے کے والدین اپنے معاشی حالات سدھارنے کیلئے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے کام کروانے پر مجبور ہوچکے ہیں مختلف فیکٹریوں اور کارخانوں میں بچوں پر جنسی تشدد کی بھی اکثر اوقات معلومات ملتی رہتی ہے متعلقہ محکمے کے لیبر انسپکٹر ماہانہ بھتہ وصول کرکے سب اچھا کی رپورٹس اعلی افسران کو پیش کردیتے ہیں۔

جہلم پریس کلب کے سروے کیمطابق شہر کی مختلف ورکشاپوں ،کارخانوں ،ہوٹلوں میں 6سے12سالہ ننھے معصوم بچوں سے مشقت لی جارہی ہے اور ان ننھے ہاتھوں سے پورا دن کام کرانے والے مالکان ہفتے بعد برائے نام پیسے دے کر احسانِ عظیم میں جتلاتے دکھائی دیتے ہیں ہوٹلوں اور ورکشاپوں پر چھوٹے بچوں کی تعداد ذیادہ ہے مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے غریب خاندانوں کی 2وقت کی روٹی پوری نہیں ہوتی اور وہ والدین بچوں سے مشقت کروانے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔

عوامی سماجی حلقوں نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ چائلڈ لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے موقف جاننے کیلئے ڈسٹرکٹ لیبر آفیسر کے دفتر رابطہ کیا گیا تو دفتر میں موجوداہلکارنے بتایا کہ صاحب ضروری میٹنگ کے سلسلہ میںگئے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button