جلالپور شریف

نیشنل بینک ڈھیری آرائیاں برانچ کے منیجر نے عوام کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرنا معمول بن لیا

جلالپورشریف: نیشنل بینک ڈھیری آرائیاں برانچ کے منیجر نے عوام کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرنا معمول بن لیا، من مانیاں عروج پر، من پسنددوشیزاوں کو پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی جاری، گورنمنٹ کے خزانے میں رقم جمع کروانے والے لائن میں کھڑے لوگوں کو ذلیل و خوار کیا جانے لگا، کمپیوٹر سسٹم پہلی تاریخوں کو ہمیشہ خراب ہونے کے من گھڑت بہانے۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل پنڈدادنخان کے نواحی گاؤں جلالپور شریف میں واقع نیشنل بینک برانچ (1753) ڈھیری آرائیاں میں تعینات منیجر نے نیشنل بینک آف پاکستان کو اپنی جاگیر بنا رکھا ہے۔جلالپور شریف کا رہائشی محکمہ تعلیم کا چپڑاسی ان پڑھ لڑکا بینک میں ذاتی ملازم رکھ کے شریف النفس لوگوںکی عزتیںاور پگڑیاں اچھالنا برانچ منیجرنے اپنا وطیرہ بن لیا ہے کیونکہ وہ لڑکا ایڈوانس سیلری کے جھانسہ دے کر کئی لوگوں سے کمیشن کی مدد میں لاکھوں روپے ہڑپ چکا ہے۔

معمول کے مطابق نیشنل بینک ڈھیری آرائیاں برانچ کو لیٹ کھولا جاتا ہے کیونکہ بینک کے باہربرانچ ٹائمنگ کا کوئی نوٹس بورڈآویزاں نہیں، بینک کا منیجر من پسنددوشیزوں کوتنخواہوںکی ادائیگیاں کرنے اور گھنٹوں اُن کے معاملات حل کرنے میں مصروف عمل رہتا ہے جبکہ عام اور سادہ لوح افراد کو رقم سسٹم خراب ہونے کابہانہ بنا کر لالی پاپ دیا جاتا ہے ۔

باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ غیر متعلقہ بندے کو بینک جیسے حساس ادارے میں شامل کرنا کیا نیشنل بنک آف پاکستان کی پالیسی میں شامل ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں ،اہلیان علاقہ اور متاثرہ تنخواہ دارطبقہ اور بوڑھے پنشنرز حضرات نے چیف ایگزیکٹو نیشنل بینک آف پاکستان اورریجنل منیجرز، زونل منیجر نیشنل بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس برانچ منیجر کو یہاں سے فوراً تبدیل کر کے فرض شناس اور ایماندار افسرکو یہاں پر تعینات کیا جائے تاکہ بہت سارے سرکاری ملازمین اور اکاؤنٹ ہولڈروں کو ریلیف مل سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button