دینہ

چودہ صدیوں کی دوری نے ہمارے قلوب پر وہ پردہ ڈال دیا ہے جس نے ہمیں ہر پہلو میں کمزور کر دیا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: چودہ صدیوں کی دوری نے ہمارے قلوب پر وہ پردہ ڈال دیا ہے جس نے ہمیں ہر پہلو میں کمزور کر دیا ہے وہ جماعت جو دوسروں کے لیے معالج اور معاون تھی اتنی لاچار ہو گئی ہے کہ علاج سے لے کر اپنی دنیاوی ضروریا ت کے پورا کرنے کے لیے بھی غیر مسلم کی طرف دیکھ رہی ہے ،یہ گھٹا یہ گرد جو ہمارے قلوب پر پڑ چکی ہے اسے اللہ کے ذکر کے ساتھ اتارا جا سکتا ہے یہی اس کا واحد علاج ہے۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا 40 روزہ سالانہ اجتماع کے اختتامی بیان اور اجتماعی دعا کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ،یہ ہر ایک کا اپنا فیصلہ ہے کہ ہر کوئی اپنا اعمال نامہ خود تیار کر رہا ہے ،اس میں کانٹے اور آگ بھر رہا ہے یا دودھ اور شہد کی نہریں لکھ رہا ہے ،جس طرح کے ہمارے اعمال ہوں گے ویسے ہمارا اعمال نامہ تیار ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کفار کے لیے اس قدر رنجیدہ ہوتے کہ جیسے آپ ﷺ ان کے دکھ میں اپنی جان ہی دے دیں گے توآپ ﷺ مومنین کے لیے کتنا درد رکھتے ہوں گے جنہوں نے آپ کا کلمہ پڑھا ان کے لیے کتنے سوچتے ہوں گے اور جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں جنہوں نے گھر بار چھوڑ دیے آپ ﷺ کا ان کے ساتھ کیسا رشتہ ہوگا ،کیسی محبت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دعا کرنا بذات خود اتنی بڑی اللہ کریم کی عطا ہے کہ بندے کو اپنے اللہ کریم سے کلام کرنا نصیب ہوتاہے ،بندہ کیا مانگ رہا ہے وہ کیا عطا کر رہا ہے ان باتوں سے ہٹ کر کیا یہ نعمت کم ہے کہ اللہ کریم سے ہم کلامی نصیب ہوئی اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع عطا ہوا جو کوئی نیکی کرتا ہے تو اپنے لیے اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے اعمال کو دیکھیں کہ ہمارا ایک ایک عمل جس سے ہم اپنی آخرت تیار کر رہے ہیں کیا وہ اس قابل ہے کہ بارگاہ الٰہی میں پیش بھی کیا جا سکے ،اس لیے ہمیشہ اللہ کریم سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے جس کا انداز اللہ کریم نے خود فرمایا ہے کہ ہمہ وقت اپنی عاجزی کے ساتھ درگزر ،بخشش اور رحم کے طلب گار رہنا چاہیے اور اللہ کریم کو معاف کرنا پسند ہے جتنا بھی کوئی گناہ گار ہو اللہ کریم کی رحمت کو عاجز نہیں کر سکتا۔

یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج اختتامی بیان ہوا اور اجتماعی دعا بھی ہوئی جس میں ملک بھر سے بہت بڑی تعداد میں سالکین نے شرکت کی اور اپنے قلوب کو منور کیا ۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی اور کورونا وبائی مرض سے حفاظت کی بھی دعا فرمائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button