دینہ

نئی تعمیر ہونے والی ہڈالی تا بائی پاس روڈ میں ٹھیکیدار کی کرپشن نظر آنا شروع ہو گئی

دینہ: ماضی قریب میں بنائی گئی ہڈالی تا بائی پاس روڈ میں ٹھیکیدار کی کرپشن نظر آنا شروع ہو گئی۔ محکمانہ قوائد و ضوابط کے مطابق سڑک صرف کاغذ کے ٹکڑے تک محدود۔ حقیقت میںناقص میٹریل کا استعمال کھلے پیمانے پر کیا گیا۔روڈ بناتے ہوئے ٹھیکیدار کی طرف سے تسلی دی گئی تھی کہ روڈ محکمانہ قوائد و ضوابط کے مطابق بنائی جاری ہے۔ عوام کی ٹھیکیدار کے خلاف انکوائری اور روڈ کی فوری مرمت کے لیے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے اپیل۔

تفصیلات کے مطابق ہڈالہ تا بائی پاس روڈ پونے تین کروڑ کی لاگت سے بنائی گئی۔ ابھی کچھ عرصہ ہی نہ گزرا کی ٹھیکیدار کی کرپشن نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب روڈ کا ٹھیکہ لیا جاتا ہے تو اس بات کا حلف دیا جاتا ہے کہ روڈ کو محکمانہ قوائد و ضوابط کے مطابق تیار کیا جائے گامگر جب روڈ کا کام شروع کیا جاتا ہے تب روڈ کی چیکنگ کا کوئی خاطر خواہ نظام نہیں ہے۔لہٰذا ٹھیکیدار اپنی مرضی سے روڈ بناتے ہیں اور جب اُن کا دل کرتا ہے روڈ کو ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

اس بات کا ثبوت ہڈالی تا بائی پاس روڈ کی صورت میں موجود ہے ایک تو اس پراجیکٹ کو پورا نہیں کیا گیا ۔ پانی کے لیے بنایا گیا نالہ اُوپر سے صر ف چند سو میٹر تک کور کیا گیا، باقی سارا نالہ خالی ہے اور روڈ کے کناروں پر بھی کوئی بجری یا سیمنٹ نہیں ڈالا گیا۔ظلم یہ کہ جو کارپٹ روڈ بنائی گئی اس میں میٹریل بھی ناقص استعمال کیا گیا ہے۔

روڈ بناتے ہوئے ٹھیکیدار نے تسلی دی تھی کہ روڈ کو محکمانہ اصولوں کے مطابق بنایا جا رہا ہے مگر ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا ہے کہ روڈ اور نالہ چند مقامات پر ٹوٹنا شروع گیا ہے۔پنجاب حکومت کی طرف سے کیے گئے اس اچھے قدم کوٹھیکیدار نے اپنی کرپشن کا رنگ دے کر عوام کی نظر میں سیاسی شخصیات کو مشکوک کر دیا ہے۔

عوام کی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے اپیل ہے کہ روڈ کے جو حصہ خراب ہو رہا ہے وہ فوراً مرمت کروایا جائے اور ٹھیکیدار کے خلاف فوراً انکوائری کے آڈر جاری کیے جائیں تا کہ آئندہ ہونے والے کام کرپشن سے بچ جائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button