جہلم

چینی ناپید، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، روزہ داروں کی قوت خرید جواب دے گئی

جہلم: چینی نا پید، اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، روزہ داروں کی قوت خرید جواب دے گئی، سستے رمضان بازار سرکاری افسران اور ارباب حکومت کے فوٹو سیشن کے مراکز بن گئے ۔ رمضان بازاروں میں ملنے والی اشیاء کا معیار عام بازاروں سے بھی گرا ہوا ہے ۔ سستی چینی کے نام پر عوام کو بھکاریوں کی طرح قطاروں میں کھڑے ہو نے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔

بڑھتی ہوئی غربت، مہنگائی اور بے روز گاری کے مسائل نے عوام کو بد حال کر دیا۔آئی ایم ایف کو راضی کرنے کے لیے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے ۔گرانفروشوں کے خلاف انتظامیہ کی عدم توجہی عوام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔حکومت نے عوام کے گراں فروش مافیا کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا ہے، رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں خود ساختہ مہنگائی کے مارے عوام سروے کے دوران پھٹ پڑے۔

سروے کے مطابق رمضان المبارک میں ملک بھر سمیت جہلم میں بھی مہنگائی کا طوفان برپاہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے عوام کی قوت خرید جوابدے گئی ہے۔ عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں گراں فروش مافیا حرکت میں آ گیا ہے اور قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر کے عوام کا بھرکس نکال رہا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہ لانا گراں فروش مافیا کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے ۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل نے عوام کے بدحال کر دیا ہے۔ مہنگائی نے روٹی کپڑا اور مکان کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے ۔ ضلع بھر میں سبزیوں ، پھلوں، دالوں، چاول ، آٹے اور چینی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ سستے رمضان بازار بھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔ رمضان بازاروں میں ناقص اشیائے ضروریہ سر عام فروخت ہو رہی ہیں جبکہ انتظامیہ رمضان بازاروں میں صرف فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اقتصادی اصلاحات سے متعلق فیصلوں ، اعلانات اور اقدامات سے وابستہ امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں، مہنگائی کے طوفان در طوفان اٹھنے اور بے روزگاری کے جھکڑ چلنے کے باعث عوام کی مشکلات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ سروے کے دوران لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک طرف سرکاری مہنگائی نے جینا دوبھر کیا تھا اب مصنوعی مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں عدم استحکام حکومت کی نا اہلی اور گراں فروش مافیا کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے ۔

عوامی سماجی حلقوں نے حکومت اور ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے مہنگائی کے طوفان کو روکنے کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے اور مصنوعی مہنگائی کا سبب بننے والے مافیا کے خلا ف آہنی ہاتھوں سے نپٹا جائے، اگر حالات برقرار رہے تو عوام فاقوں مرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

سروے کے دوران عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوٹو سیشن کروانے کے بجائے رمضان بازاروں سمیت عام بازاروں میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button