جہلم

جہلم میں نقاب پوش خوبرو بھکارنوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے بڑھنے لگی

جہلم: شہرو گردونواح میں نقاب پوش خوبرو بھکارنوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے بڑھنے لگی ۔مساجد اور بازاروں سمیت اندرون شہر کے گلی محلوں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہیں ، صحت مند بھکارنیں کام کی بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دے رہی ہیں ،بھکارنوں نے بھیک مانگنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کر لئے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ یہ بھکارنیں کبھی بجلی کا بل ، کبھی گھر کا کرایہ ،کبھی ادویات اور اسی طرح مختلف حیلے بہانوں سے سادہ لوح افراد سے بھیک مانگتیں دکھائی دیتی ہیں ، جب انہیں کوئی کہے کہ آپ کام کریں تو آگے سے لعن تعن کرکے چلتی بنتی ہیں، ان میں سے متعدد بھکارنیں ایسی بھی ہیں جنہوں نے نہ صرف فینسی کپڑے اور جوتے پہنے ہوتے ہیں بلکہ ان کے کپڑے بھی کسی طرح بھکارنوں والے نظر نہیں آتے۔
دوسری جانب بھکارنیں اپنے بچوں کے سروں ، بازوں ، ٹانگوں پر فرضی پٹیاں باندھ کر بھیک مانگتی دکھائی دیتی ہیں ، کئی بھکارنیں گونگی بہری کا ڈرامہ رچا کرسادہ لوح شہریوں کو الو بنا کر بھیک مانگتی ہیں ان کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بیشتر بھکارنیں نوجوانوں کو دعوت گناہ دینے کے لئے ریلوے اسٹیشن سے ملحقہ ریلوے کوارٹروں میں لیجاتی ہیں۔
ان بھکارنوں میں سے اکثر بھکارنیں خواتین کے پرس نکالنے اور چوری کی وارداتوں میں ملوث ہوتی ہیں اور متعدد مرتبہ گرفتار بھی ہوچکی ہیں مگر خواتین ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر وبیشتر انسان انسانیت کے ناطے ان کی غلطیاں کوتاہیاں معاف کر دیتے ہیں۔
جہلم شہر و گردونواح میں بھکاریوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ، شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران سے گدا گری ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button