جہلم

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ڈھیل، منچلوں نے سکول و کالجز کی طالبات کی ناک میں دم کر دیا

جہلم: شہر و گردونواح میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ڈھیل کے باعث منچلوں اور بھونڈوں نے سکول و کالجز کی طالبات کی ناک میں دم کر دیا۔
سکول و کالجز میں صبح کے وقت اور چھٹی کے اوقات میں آوارہ گرد اور اوباش لڑکے شہر کے مین چوکوں چوراہوں میں طالبات کو چھیڑنے کی غرض سے موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ناکہ بندی کر لیتے ہیں۔
بڑی تعداد مقامی کالجزاور سکولوں کے طلباء کے علاوہ بڑے گھروں کے بگڑے رئیس زادوں کی ہوتی ہے جو سکول اور کالجز سے بھاگ کر لڑکیوں کا پیچھا کرتے ہیں اور بیہودہ جملے بازی کر کے شریف لڑکیوں کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
چنگ چی رکشوں، کیری ڈبوں، ویگنوں ،بسوں میں فحش انڈین گانوں ، مجرے لگا کر طالبات اور خواتین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں ، سکول کے اوقات میں انتظامیہ چنگ چی رکشوں ، کیری ڈبوں ، بسوں، ویگنوں پر اونچی آواز میں چلنے والے بیہودہ گانے ، مجرے بند کروانے میں زرا بھی دلچسپی ظاہر نہیں کرتی۔
لڑکیوںکے سکول و کالجز جانے اور چھٹی کے اوقات میں شہر بھر کے بھونڈ مختلف حیلوں بہانوں سے سکول و کالجز کے باہر منڈلاتے نظر آتے ہیں جو کہ شریف گھروانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو بلاوجہ پریشان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بگڑے گھروں کے رئیس زادے ٹولیوں کی صورت میں موٹر سائیکلوں پر طالبات کا پیچھا کرنے کے علاوہ آوازیں کسنا ،سیٹیاں بجانا، موٹر سائیکلوں کے سائرن بجانا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اس دوران لڑکیوں کو فحش حرکات کے ذریعے ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے جس کیوجہ سے شریف گھرانوں کی طالبات کیلئے مزید تعلیم جاری رکھنا بھی محال ہوتا جا رہاہے اس تمام صورتحال کے باوجود ضلعی انتظامیہ اس بیہودہ فعل کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
شہر کی مذہبی، سماجی، رفاعی ،شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب، ڈی پی او جہلم، اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے اصلاح و احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button