ضلع جہلم میں صدیوں کی تاریخ کے امین ڈیڑھ سو سالوں سے زائد عمر برگد کے درخت

0

جہلم: ضلع جہلم میں صدیوں کی تاریخ کے امین ڈیڑھ سو سالوں سے زائد عمر کے 35/40 فٹ بلند برگد کے درخت کی ٹھنڈی چھاؤں کی اہمیت اور ان سے جڑی کہانیاں اور روایتیں بھی بچوں ،بوڑھوں میں زبان زدِ عام ہیں ، آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی درجنوں نوجوان ،بزرگ برگد کی چھاؤں تلے بیٹھ کرگھنی چھاؤں کا لطف اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم اندرون شہر واقع دربار بابا پیر سلیمان پارس، ضلع کچہری ، سعیلہ قبرستان، چوک بابا جادہ سے ملحقہ اور دیگر مقامات پر صدیوں پرانے برگد کے درخت آج بھی موجود ہیں جن کے بارے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی کئی نسلوں نے ان درختوں کو موسمی شدتوں کا مقابلہ کرتے دیکھا ہے بزرگ شہری تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجدادبھی ان درختوں کی موجودگی کے حوالے سے زکر کرتے آئے ہیں۔

ایک بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ یوں تو جہلم کو قائم ہوئے صدیاں بیت گئی ہیں اور یہ درخت اس سے بھی زیادہ پرانے ہیں اور ان کی عمریں کئی سو سالوں پر محیط ہیں ، یہ برگد کے درخت آج بھی اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑے ہیں ، مختلف کہانیوں کے مطابق یہ درخت شیر شاہ سوری سے لیکر آج تک ہر دور کے عینی شاہد ہیں ،35سے 40 فٹ بلند یہ درخت ایک طرف صدیوں سے انسانوں کے لئے گھنی چھاؤں بنے ہوئے ہیں تو دوسری طرف شہریوں کا بھی ان سے رشتہ اٹوٹ ہے۔

اولیائے کرام نے ان برگد کے درختوں کے گھنے سائے کو ا پنا مسکن بنایا، بوڑھوں کی قدرتی بیٹھک ،ان کی ٹھنڈی چھاؤں کے دیوانے آج بھی کم نہیں ہوئے، بوڑھے، نوجوان ، بچے آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ان برگد کے درختوں سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ خواتین اور بچوں کا رشتہ بھی ان برگد کے درختوں سے اٹوٹ ہے جو انہیں ا پنی پینگوں سے خوب جھولے جھلاتے اور چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے آج بھی لہلاتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.