کالم و مضامین

کنٹونمنٹ بورڈ جہلم انتخابات

تحریر: محمد شہباز بٹ

کنٹونمنٹ بورڈ جہلم کے انتخابات مکمل ہوگئے،پاکستان تحریک انصاف کے دونوں امیدوار میجر (ر) ڈاکٹرصلاح الدین اور احمد شیخ کامیاب ہو گئے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رہے، مسلم لیگ (ق) تیسرے نمبر پر رہی،وارڈ نمبر ایک سے مسلم لیگ(ق)کے امیدوار عمران بشیر وائیں فیورٹ قرار دئیے جارہے تھے لیکن انہوں نے سب سے کم ووٹ حاصل کیے۔

پبلک سروے کے مطابق وہ جب وائس چئیرمین تھے تو اس دوران کنٹونمنٹ کے ٹیکسز اور دکانوں کے کرائے کئی گناہ بڑھے، لوگوں کا خیال ہے یہ عمران بشیر وائیں کی مشاورت سے ہوا،شائد یہ ہی انکی وجہ شکست ہے،وارڈ نمبر2سےمسلم لیگ(ق)کے امیدوار رضوان نجب نے توقعات سے بڑھ کر ووٹ لیے کیونکہ وہ سیاست کے کھلاڑی نہیں تھے تبصرہ نگار کہتے ہیں جو ووٹ پڑے وہ انکے بھائی ڈاکٹر عدنان نجب کی وجہ سے پڑے۔

مسلم لیگ(ن)کی اگر بات کی جائے تو عوامی رائے کے مطابق مسلم لیگ (ن)کے وارڈ نمبر1سے ان کے امیدوار عثمان محمود غیر مقبول شخصیت کے مالک ہیں، وارڈ نمبر2 سے بلال جنجوعہ کے لیے صرف مسلم لیگ(ن) جہلم کا ایک گروپ متحرک رہا۔

سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے پی ایم ایل(این)کے کچھ مقامی راہنماء تصوریروں کی حد تک کمپین کرتے رہے اور ووٹیں کسی اور کے لیے مانگتے رہے،بہر حال بلال جنجوعہ کاراجہ حسیب جنجوعہ نے بھرپور ساتھ تھا، گل افشاں وارڈ سے27ووٹوں کی لیڈ حسیب جنجوعہ کی محنت کا نتیجہ ہے اگر مسلم لیگ(ن) کے تمام راہنماء صدق دل اور خلوص نیت سے بلال کی کمپین چلاتے تو کامیابی یقینی تھی۔

اب بات پاکستان تحریک انصاف کی کرتے ہیں جو کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن سے قبل خشک پتوں کی طرح بکھری ہوئی تھی لیکن ٹکٹوں کی تقسیم پر وفاقی وزیر سمیت تمام سٹیک ہولڈر نہ صرف متفق بلکہ سب متحد ہو گئے یہاں تک تو ٹھیک تھا متحد ہونے کے بعد بھی الیکشن مہم اوائل میں سست روی کا شکار تھی۔

وارڈ نمبر دو کے امیدوار احمد تو شیخ تھے لیکن وارڈ نمبر ایک سے امیدوار ڈاکٹر صلاح الدین ان سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دئیے،نہ بینرز نہ پوسٹرز نہ سٹیمرز،پوچھا گیا تو کہا ایڈوٹائزمنٹ ٹیکس بہت زیادہ ہے، یعنی الیکشن بھی لڑنا ہے اور خرچہ بھی بچانا ہے،ایک کلینک پے بیٹھا رہا دوسرا ادویات کے فرنچائز آفس میں۔

پھر یوں ہوا کہ انٹری ہوئی وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بھائی فراز چوہدری کی ،سب سے پہلے انہوں نے میڈیا کا اعتماد حاصل کیے اپنے امیدواروں کے ہمراہ میٹ دی پریس پروگرام میں میڈیا کے تندوتیز سوالوں اور برق رفتار باؤنسرز کا تحمل مزاجی سے سامنا کیا، امیدواروں کو جواب دینے کی بجائے خود فرنٹ فٹ پر آکر کھیلے اور پھر کیا خوب کھیلے۔

صحافیوں کے سوالوں ان کی آراء سے سبق اور نتیجہ اخذ کرکے سوشل میڈیا کی ٹیم متحرک کی،میڈیا کو ساتھ رکھکر ہر خبر،جوڑ توڑ کو احسن طریقے سے عوام کے سامنے رکھا ، حکومتی اقدامات، فواد چوہدری کی حلقے کی عوام کے لیے خدمات انکے منشور کو عوام تک پہنچایا، ڈاکٹرز،انجینئرز سے لیکر مسیحی برادری تک ہر کسی کے پاس گئے انکے مسائل سنے اور اپنے امیدواروں کی حمایت کے لیے قائل کیا۔

شیخ برادری، تاجر برادری سمیت تمام اہم شخصیات سے گھر گھر جا کر ملاقاتیں کیں، کارنر میٹینگز میں چوہدری ندیم افضل بنٹی ،ضلعی صدر زائد اختر اور دیگر عہدہ داران کے ہمراہ شرکت کی، یہاں تک کہ روزانہ اسلام آباد سے جہلم آتے ڈور ٹو ڈور کمپین کرکے رات گئے واپس اسلام آباد جاتے اور پھر صبح واپس آجاتے تھے،،شیخ قیوم،رضوان منور،علی جٹ،چوہدری تصور،آصف محبوبی،سمیت دیگر راہنماء بھی تمام الیکشن مہم میں انکے شانہ نشانہ رہے۔

پی ٹی آئی کی خواتین رخسانہ عزیز،رخسانہ حمید،سمیت دیگر خواتین نے بھی خوب مہم چلائی لیکن شعبہ خواتین کی کچھ عہدہ داران محض تصویری نمائش تک محدود رہیں ، فراز چوہدری نے ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا ،، میجر (ر)ڈاکٹر صلاح الدین جو سب سے کمزور امیدوار تصور کیے جارہے تھے وہ بھی مضبوط بن کر سامنے آئے۔

احمد شیخ اور انکے کچھ قریبی ساتھی پولنگ کے روز سست روی اور مایوسی کا شکار دکھائی ،گل افشاں کے پولنگ اسٹیشن تک وہ اپنے ووٹرز کو نہ پہنچا سکے انکے رفقاء پولنگ کیمپ کے باہر جیت کی خبر سننے اور پھر جیت کا کریڈٹ لینے کے لیے کھڑے تھے شائد وہ over confidence تھے اسی لیے گل افشاں کے پولنگ اسٹیشن سے 27ووٹ سے ہار گئے، اگر اے پی ایس سے انکی90ووٹ کی لیڈ نہ آتی تو پھر انکی سیٹ مشکل ہو گئی تھی۔

بہر حال بالآخر پی ٹی آئی نے کنٹونمنٹ بورڈ جہلم سے کلین سویپ کیا میرے تجزیئے کے مطابق دونوں امیدواروں کی فتح کا سہرا پی ٹی آئی کے نوجوان ذہین راہنماء فراز چوہدری کے سر جاتا ہے ،وہ جوڑ توڑ،فہم فراست،دور اندیشی ،حسن و اخلاق اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہ کرتے امیدواروں کی مہم اپنی مہم سمجھ کر نہ چلاتے تو آج نتیجہ شائد کچھ اور ہوتا، فراز نے ثابت کیا وہ مستقبل میں جہلم کی سیاست کاابھرتا ہوا ستارہ ہے۔

میری نظر میں وہ مین آف دا ٹورنامنٹ ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button