کالم و مضامین

فلسطین، اسرائیل اور محمد علی جناح

تحریر و تحقیق: چوہدری زاہد حیات

لکھنو: 15، 16، 17، 18 اکتوبر 1937ء- آل انڈیا مسلم لیگ کے 25ویں سالانہ اجلاس میں قائد اعظمؒ نے برطانوی پیل کمشن رپورٹ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مسلم لیگ نے قرارداد بھی منظور کی۔ اس کے بعد مسلم لیگ کے ہر اجلاس میں محمد علی جناح تقسیمِ فلسطین کی بھرپور مخالفت کرتے رہے اور اسرائیل کے قیام سے پیدا ہونے والی مستقل بدامنی سے خبردار کرتے رہے۔ یہ معاملہ صرف تقریروں اور قراردادوں تک محدود نہ رہا، قائد اعظمؒ کا مفتی اعظم فلسطین سید محمد امین الحسینی سے بھی رابطہ تھا۔

12 اکتوبر 1945ء کے طویل خط میں انہوں نے محمد علی جناح کی اسلامی خدمات کے اعتراف میں لکھا: ”میرا یہ خط آپ کی ان گراں قدر خدمات پر آپ کے لیے اظہارِ تشکر ہے‘ جو احکامِ خداوندی کے بموجب اخوتِ اسلامی اور مسلمانوں کے مابین تعاون کی خاطر ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ سارے اسلامی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے آپ مسلسل انجام دے رہے ہیں، میں آپ کا بالخصوص مسلم لیگ کا اس غیرمعمولی التفات پر بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو آپ نے مجھے عطا کیا کیونکہ میری جلاوطنی کے دوران میں اور جب حالات بے حد کٹھن تھے‘ آپ کی آواز پہلی اسلامی آواز تھی جو میرے کانوں تک پہنچی۔ اس کا تاثر شاندار تھا…‘‘۔ (صرف مسٹر جناح۔ ص:208-09)۔

بے حد مشکل حالات میں قائد اعظمؒ کی آواز پہلی اسلامی آواز تھی جو مفتی ? اعظم کے کانوں تک پہنچی۔ تب امام الہند اور شیخ العرب و العجم کو ہندو کانگریس کی خوشہ چینی سے ہی فرصت نہ تھی۔ بہرحال، قائد اعظمؒ ان کی مالی امداد بھی کرتے رہے۔ ”دی پیلسٹائن ٹرائی اینگل‘‘ مطبوعہ لندن کا مصنف نکولس ہیتھل صفحہ 84 پر مفتی اعظم سید محمد امین الحسینی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”اگرچہ یروشلم سے وہ سینکڑوں میل دور تھا، پھر بھی اس کا سحر قائم تھا۔ اس کی بات سنی جاتی تھی۔

مثلاً، وزارتِ خارجہ کے علم میں ہے کہ اسے ہندوستان کے مسلمان لیڈر محمد (علی) جناح سے باقاعدہ رقوم ملتی تھیں۔‘‘ پھر وہ برطانوی وزیر اعظم لارڈ ایٹلی کے نام قائد اعظمؒ کے تار کا ذکر کرتا ہے: ”… ایٹلی (Attlee) کو محمد علی جناح کی طرف سے تار موصول ہوا، جس میں انہوں نے مداخلت کرنے پر ٹرومین کی ملامت کی: ”میرا فرض ہے کہ میں آپ کو اس امر سے آگاہ کروں کہ عربوں کی قیمت پر قومِ یہود کی خوشنودی کے آگے ہار ماننے پر مسلم دنیا اور مسلم انڈیا کی طرف سے پُرزور ناراضگی اور پوری شدت کے ساتھ مزاحمت کی جائے گی۔‘‘ (صفحہ:220)۔

قائد اعظمؒ نے فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی ہر طرح سے مخالفت کی اور امریکی اور برطانوی حکومت کو مجرم قرار دیتے ہوئے 8 نومبر 1945ء کو قیصر باغ بمبئی میں تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا: ”… امریکی اور برطانوی حکومتیں کان کھول کر سن لیں، پاکستان کا بچہ بچہ اور تمام اسلامی دنیا اپنی جانیں دے کر ان سے ٹکرا جائیں گے اور فرعونی دماغ کو پاش پاش کر دیں گے…‘‘ ایسے میں اسرائیل پاکستان کو کیونکر معاف کر سکتا تھا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل کے فاو?نڈنگ فادر بن گوریان (Ben Gurion) نے پیرس کی ایک یونیورسٹی میں اپنے لیکچر میں کہا: ”عالمی صیہونی تحریک کو اپنے بارے میں پاکستانی خطرے سے بے پروا نہیں رہنا چاہیے۔

پاکستان اب اس کا اولین ہدف ہونا چاہیے، اس لیے کہ یہ نظریاتی ملک ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہے، سارے کا سارا پاکستان یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے محبت کرتا ہے۔ ہمارے لیے خود عرب اس قدر خطرناک نہیں جس قدر کہ پاکستان ہمارے لیے خطرناک ہے۔ لہٰذا پاکستان کے خلاف فوری قدم اٹھانا عالمی صیہونیت کے لیے اشد ضروری ہے۔ یہ بات صہونیت کے دماغ میں بیٹھ چکی کہ اسلام دشمنوں کا حقیقی دشمن پاکستان ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button