کالم و مضامین

تنہا عمران خان اور محاذ بے شمار

تحریر: چوہدری زاہد حیات

عمران خان جو کہتے ہیں وہ ان کے دل سے نکلی ہوئی باتیں ہوتیں ہیں اس لیے کہ انہیں اس مٹی اور اس پر بسنے والوں سے بے محبت ہے اس مٹی سے خان کا لگاؤ ڈھکا چھپا نہیں ورنہ وہ کبھی بھی مغرب کی ’رنگین اور پرکشش دنیا کو خیر آباد نا کہتے اور وہیں آرام سے زندگی بسر کرتے جہاں انسانوں کے ساتھ انسانوں والا ہی سلوک رکھا جاتا ہے ۔

خان چاہتا تو عیش و عشرت اور آرام دہ زندگی بسر کرتا مگر عمران خان نے سوچا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو بھی جینے کے اس راستے پر لائیں جس راستے پر چل کر انہیں آسائشیں، آسانیاں اور انصاف ملیں پھر وہ ایک نئی دنیا سے آشنا ہوں گے انہیں حیات نو کا احساس فضاؤں میں لیے پھرے گا۔

اب جب وہ باقاعدہ و باضابطہ طور سے اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے اختیارات کاقلمدان سنبھالے ہوئے ہیں تو ان سے یہ امیدیں بھی بہت بلند عوام کی کہ وہ بہت جلد پاکستانی عوام کو پس ماندگی کے اندھیروں سے نکال لیں گے مگر یہ بات پاکستانیوں کو نہیں بھولنی چاہیے کہ ان کی راہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہے ہر قدم پر بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں، رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں سازشیوں کی سازشیں ہیں جو ہر وقت کرتے رہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس وقت وطن عزیز تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے ان سازشوں ان رکاوٹیں کے باوجود عمران خان حوصلہ نہیں ہار رہے ہمت نہیں ہا رہے اور سینہ تان کراور پوری دلجمعی سے مسائل کے ساتھ نبردآزما ہیں۔

ایک طرف معیشت کی حالت تشویشناک ہے ہے تو دوسری جانب سرحدی خطرات ہیں جنہوں نے ترقی کے عمل کو گویا سست کر دیا ہے مگر پھر بھی کپتان کے چہرے پر خوف کے سائے نہیں منڈلائے وہ مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ شکست کو میں کبھی بھی تسلیم نہیں کرتا مقابلہ کرتا ہوں وہ یہ کہتے بھی اور یہ خان صاحب کی خوبی بھی ہے۔

مودی سرکار جو غنڈہ گردی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھتے ہوئے پاکستان کو خوف زدہ کرنا چاہتی ہے اس پر وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہم تیار ہیں لڑنے کے لیے مگر امن پسند ہیں امن کو فروغ دینے کے خواہشمند ہیں۔

مودی ہٹلر کو اس طرح کی سوچ اور فکر نا پسند ہے لہٰذا وہ انسانی خون بالخصوص مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے۔ اکیسویں صدی کا یہ ڈریکولا بلا جھجک و روک ٹوک انسانی بستیوں میں گھوم پھر رہا ہے اور معصوم لوگوں کا لہو پی رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مہذب دنیا کیوں چپ ہے کیونکہ لاغرض ہے وہ کیوں شعوری دور کے لوگوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر چیخ نہیں رہی اس کے دل کی دھڑکنیں کیوں تیز سے تیز تر نہیں ہو رہیں۔

وہ ایک پرندے کو شاخوں میں الجھا ہوا تو نہیں دیکھ سکتیں مگر انسانوں کے جسموں کو ٹکڑوں میں تبدیل کرنے والے وحشیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ لگتا ہے مہذب دنیا اپنی اپنی سرحدوں تک محدود ہے اسے دوسروں پر ترس آتا ہے نہ رحم لہٰذا جو ہورہا ہے اس کے نزدیک بے معنی ہے۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں لہٰذا مودی و حشی پوری طاقت کے ساتھ کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے مگر کیا کشمیری عوام خاموشی سے اس خونی منظر کو دیکھتے رہیں گے نہیں ہرگز نہیں وہ ان بھارتی سفاکوں پر برق بن کر گریں گے انہیں راکھ میں بدل دیں گے کیونکہ وہ حق پر ہیں ان کے گھر کو جلایا جا رہا ہے اس پر ناجائز قبضہ کیا جا رہا ہے لیکن اس صورت حال میں بھی عمران خان کے ماتھے پر پسینے کی ایک بوندھ بھی نمودار نہیں ہوئی۔

اب انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اس کا مطلب واضح ہے کہ بھارت نے جو کرنا ہے کرے ہم اس کا جواب ایسا دیں گے کہ اس کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ ادھر انہیں آئے روز حزب اختلاف انھیں پریشان اور ہراساں کرنے کی کوشش میں لگی ہوتی ہے کہ وہ مل کر ان کی حکومت کا تختہ الٹ دے گی یعنی اقتدار میں وہ آ جائے گی پھر احتساب ہو گا نہ کچھ اور یوں جو مال ہضم کیا ہے اور کیا جا رہا ہے اس سے متعلق باز پرس کا سلسلہ رک جائے گا جبکہ ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں اور نا لگتا کہ ایسا کچھ ہونے جا رہا۔

مگر اس نے ملکی نظام سیاست و ریاست میں تھوڑے سے محدود پیمانے پر ہلچل سی ضرور مچا رکھی ہے جو کہ موجودہ حالات میں انتہائی غلط ہے اور ملکی مفادات کے لیے نقصان دہ مگر کیا کیا جائے کہاں اس حزب اختلاف نے برس ہا برس تک موج مستی کی۔ اربوں کھربوں کا ہیر پھیر کیا خود کو مضبوط کرنے کے لیے مافیاز کو بھی طاقتور بنایا تا کہ ان کے ذریعے عوامی خواہشات کو دبایا جا سکے۔ انہیں احتجاج کے حق سے محروم کیا جا سکے۔ لہٰذا آج وہ سب قریباً ختم ہو چکا ہے یا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کپتان کی حکومت اور اس کے ماتحت ادارے حساب کتاب کر رہے ہیں۔

عمران خان کا حوصلہ ہے ہمت ہے کہ وہ بیک وقت چار محاذوں پر ڈٹ کر کھڑے ہیں معیشت، معاشرت، سیاست اور سرحدی خطرات کے محاذوں پر بہرحال عمران خان کی طرز سیاست و حکمرانی سے لاکھ اختلاف سہی مگر وہ عوام کے لیے کچھ بہتر کرنے کا عزم رکھتے ہیں اگرچہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے انہیں ہر روز نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے ان کی زندگی اور حکومت مشکلات میں گھرتی جا رہی ہے اس کے باوجود یہ بات طے ہے کہ آئندہ وہ یہ سب بھول جائیں گے اور عمران خان اور ان کی حکومت کے گن گائیں گے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ عوام کو خوشحالی بنائے بغیر در پیش صورت حال میں تابع فرمان بنایا جا سکے۔

لہٰذا عمران خان انشاء اللہ چان اندھیروں کو لازمی بھگائیں گے جنہوں نے خوشحالی کی روشن راہوں کو تاریکی میں گم کر رکھا ہے۔ جو لوگ مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں مہنگائی کی دوھائی دے رہے وہ بھی درست ہیں مگر انہیں یہ بات بھی لازمی ذہن میں رکھنا ہو گی کہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی موجود نہیں؟ بھاری قرضہ لے کر معیشت کو وقتی طور مستحکم کیا جا سکتا مگر یہ مستقل حل نہیں ہے۔ کیونکہ ماضی میں یہی یہ پالیسی اپنائی گئی عارضی طور سے بہت سے ’’کارنامے‘‘ سر انجام دیئے گئے مگر اب اس تباہ کن معاشی پالیسی اور اس کے ا اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں مگر بات یہ بھی ہے کہ حکومت کا میڈیا سیل حکومت کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں بارے عوام کو نہیں بتا ہا رہا۔

شاید اس کی وجہ قومی ذرائع ابلاغ کا اضطراب ہے جو حکومت کی اشتہارات کی پالیسی کے سبب پیدا ہوا ہے مگر کہتے ہیں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے لہٰذا فریقین کو مل بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ کوئی ایسی وجہ نہیں کہ انہیں ناکامی ہو۔ بہر کیف سیاسی جماعتوں ان کے کارکنوں، ووٹروں اور سپورٹروں کو یہ پہلو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ڈھائی سالوں میں حکومت کے خلاف کوئی سکینڈل نہیں سامنے آیا۔

اگر آگے چل کر کچھ ایسا ہوتا بھی ہے تو وہ نیب سے بچ نہیں سکے گا بے شک نیب کی ’’رفتار سراغ‘‘ تیز نہیں مگر اس کا شکنجہ بہت سخت ہے اس میں آنے والے دہائی بھی دے رہے ہیں تو بھی رہے ہیں لہٰذا بلاول بھٹو زرداری شہباز شریف اور دیگر سیاسی شخصیات کا یہ کہنا کہ ڈھائی سالوں میں لوگوں کی کوئی خدمت نہیں کی گئی وہ کامیاب حکومت نہیں قطعی طور پر درست رائے نہیں ہے عمومی تجزیے کے مطابق وقت ثابت کرے گا کہ وہ محض الزام لگا رہے تھے۔

حرفِ آخر یہ ہے خان صاحب کو کسی ایک مشکل کسی ایک مافیا کا نہیں بہت سے مشکلات اور برسوں سے اس ملک پر قابضین بظاھر سیاسی جماعتوں کی شکل میں بہت ہی مضبوط مافیا ز کا سامنا ہے جن کو شکست دینا خان صاحب کے لیے آسان بلکل نہیں ہے لیکن ناممکن نہیں کیونکہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے انشاللہ خان صاحب اور پاکستان دونوں کامیاب ہوں گے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button